راولاکوٹ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی گرفت سے بازیاب 8 پولیس اہلکاروں نے پیش آنے والے پُرتشدد واقعے کی تفصیلات بیان کر دیں۔
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے لیے ڈیوٹی پر مامور ہائی وے پولیس کے 8 اہلکار اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے کہ راولاکوٹ کے قریب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح عناصر نے انہیں اغوا کرکے یرغمال بنا لیا۔
اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی ایک اہم پیش رفت ہے، جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے تحسین کے مستحق ہیں۔
بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے اہلکاروں کو مسلح جتھے کے قبضے سے آزاد کرانا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست اپنے اہلکاروں اور شہریوں کے تحفظ اور قانون کی عمل داری کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
یہ واقعہ کالعدم کمیٹی کی قانون شکنی، تشدد اور جتھہ ذہنیت کو بے نقاب کرتا ہے واقعے میں ملوث تمام شرپسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
بازیاب ہونے والے پولیس اہلکاروں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا”ہم آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں ڈیوٹی کی ذمہ داریاں سرانجام دے کر واپس لوٹ رہے تھے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح جتھوں نے ہمیں گھیر کر یرغمال بنا لیا۔”
دورانِ حراست ہمارے ساتھ انتہائی پُرتشدد رویہ اختیار کیا گیا جبکہ اغوا کاروں کے پاس جدید اسلحہ، ہتھیار اور دستی بم بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ’’دورانِ حراست ہمارے ساتھ انتہائی پُرتشدد رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ اغوا کاروں کے پاس جدید اسلحہ، ہتھیار اور دستی بم بھی موجود تھے۔ ہم سے زبردستی پاکستان اور پاک فوج مخالف نعرے لگوانے کی کوشش کی گئی۔‘‘
بازیاب اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ’’انہوں نے دھرنے میں خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر اپنے مسلح جتھوں کو چھپا رکھا ہے۔ ان کا اصل ایجنڈا عوامی فلاح نہیں بلکہ ریاست مخالف اور تشدد پر مبنی ہے۔‘‘
















