کراچی: میر رضا قتل کیس میں سندھ پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھنے کے بعد وفاقی حساس ادارے نے کیس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق میر رضا کے والدین نے وزیراعظم شہباز شریف سے کیس کی براہِ راست نگرانی کی درخواست کی تھی جس کے بعد وفاقی حساس ادارے نے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی ادارے نے کیس کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم سے اب تک کی تحقیقات کا مکمل ریکارڈ، جمع کیے گئے شواہد اور تفتیشی پیش رفت کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کی جانب سے میر رضا قتل کے اصل محرکات اور واقعے کے پسِ پردہ حقائق جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں پہلے پوسٹ مارٹم سے متعلق میڈیکولیگل افسر سے بھی پوچھ گچھ کی گئی جبکہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سے کیس کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم سے میر رضا کیس کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔ میر رضا کی اسمارٹ واچ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا، موبائل فون ریکارڈ اور فرانزک تفصیلات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
وفاقی حساس ادارے نے کیس کی جیو فینسنگ کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کرلیا ہے جس کے ذریعے مشکوک نمبرز کو فلٹر کیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز، اسمارٹ واچ ڈیٹا، موبائل ریکارڈ اور جیو فینسنگ کو تحقیقات کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی ادارے نے سندھ پولیس کی جانب سے اب تک کی جانے والی تفتیش اور دستیاب شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔














