ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً ڈھائی گنا بڑا لیکن اس کے مقابلے میں 23 گنا زیادہ موجود مادے والا ایک غیر معمولی سیارہ دریافت کیا ہے جس کی غیر معمولی کثافت نے سائنس دانوں کو حیران کردیا۔
نئے دریافت ہونے والے سیارے کو جی جے 523 بی کا نام دیا گیا ہے جس کا حجم زمین سے تقریباً 2.55 گنا بڑا جب کہ اس میں موجود مادہ زمین کے مقابلے میں تقریباً 23.5 گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سیارہ اپنی جسامت کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر گھنا ہے۔ اس کی کثافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے گرد گیسوں کی تہہ بہت کم ہے اور یہ زیادہ تر چٹانی مادے پر مشتمل ہے۔
سیارہ جی جے 523 بی ابتدائی طور پر ناسا کی خلائی دوربین کے ذریعے دریافت کیا گیا جو دور دراز ستاروں کی روشنی میں آنے والی معمولی کمی کا مشاہدہ کرکے ان کے گرد موجود سیاروں کا سراغ لگاتی ہے۔
بعد ازاں امریکی ریاست ایریزونا میں قائم رصدگاہ سے مزید مشاہدات کیے گئے جن کی مدد سے سائنس دانوں نے سیارے کے حجم، اس میں موجود مادے اور کثافت کا تعین کیا۔
یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر تقریباً 17.75 دن میں مکمل کرتا ہے جب کہ اس پورے سیاروی نظام کی عمر تقریباً 17 کروڑ سال بتائی گئی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اس دریافت نے سیاروں کی تشکیل کے موجودہ تصورات کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ جب کسی چٹانی سیارے کا مرکزی حصہ زمین کے مقابلے میں تقریباً 20 گنا زیادہ مادے پر مشتمل ہوجائے تو وہ اپنے گرد ہائیڈروجن اور ہیلیم جیسی گیسوں کی بڑی مقدار جمع کرنا شروع کردیتا ہے۔
تاہم جی جے 523 بی میں موجود مادہ اس حد سے زیادہ ہونے کے باوجود گیسوں سے بھرپور سیارہ نہیں بنا بلکہ اس کی کثافت ظاہر کرتی ہے کہ یہ زیادہ تر چٹانی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس سیارے کے گرد ابتدا میں گیسوں کی موٹی تہہ موجود ہو جو بعد میں ختم ہوگئی یا پھر دو سیاروں کے شدید تصادم کے نتیجے میں یہ بڑا چٹانی سیارہ وجود میں آیا ہو۔
ماہرین فلکیات کے مطابق مزید ایسے سیاروں کی دریافت سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ اس نوعیت کی غیر معمولی دنیا نایاب ہیں یا کائنات میں ان کی تعداد زیادہ ہے۔




















