چائے کے شوقین افراد میں ٹھنڈی چائے یعنی کولڈ برو چائے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن کیا ٹھنڈے پانی میں تیار کی گئی چائے واقعی گرم چائے سے زیادہ صحت بخش اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے؟ تاہم سائنسی شواہد کے مطابق دونوں طریقوں کے صحت کے فوائد میں کوئی واضح بڑا فرق ثابت نہیں ہوا۔
کولڈ برو چائے عام طور پر چائے کی پتیوں کو ٹھنڈے پانی میں کئی گھنٹوں یا رات بھر بھگو کر تیار کی جاتی ہے جبکہ روایتی چائے گرم پانی سے بنائی جاتی ہے۔ بعض محدود مطالعات میں سفید چائے کے لیے کولڈ برو طریقے سے بعض اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ پائی گئی تاہم سبز چائے کے معاملے میں گرم پانی بعض مفید مرکبات کو نکالنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چائے تیار کرنے کے دونوں طریقے پولیفینولز اور دیگر پودوں سے حاصل ہونے والے مفید مرکبات فراہم کرتے ہیں۔ چائے کے یہ اجزا جسم کو آکسیڈیٹو اسٹریس سے بچانے اور مجموعی صحت کی حمایت میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چائے پینے والے لوگ طویل عمر کیوں پاتے ہیں؟
دل کی صحت کے لیے مفید
تحقیقات میں چائے کے باقاعدہ استعمال کو دل کی صحت کے لیے ممکنہ فوائد سے جوڑا گیا ہے۔ سبز اور کالی چائے میں موجود فلیونوائڈز خون کی نالیوں کی صحت اور بلڈ پریشر سمیت بعض قلبی عوامل پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
فالج کے خطرے میں ممکنہ کمی
کچھ مطالعات میں باقاعدگی سے چائے پینے والے افراد میں فالج کے نسبتاً کم خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق چائے میں موجود فلیونوائڈز خون کی نالیوں کے افعال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم چائے کو بیماریوں سے بچاؤ کا واحد ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
دماغی صحت کی حمایت
سبز اور کالی چائے کے استعمال کو بعض تحقیقی مطالعات میں علمی صحت اور عمر کے ساتھ ذہنی صلاحیت میں کمی کے کم خطرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ چائے کے اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر نباتاتی مرکبات سوزش اور آکسیڈیٹو اسٹریس کے خلاف ممکنہ کردار ادا کرتے ہیں۔
ذائقے میں نمایاں فرق
ماہرین کے مطابق گرم اور کولڈ برو چائے کے درمیان سب سے نمایاں فرق شاید ذائقے کا ہے۔ کولڈ برو چائے عموماً کم کڑوی، نرم اور ہلکے ذائقے والی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ خاص طور پر گرم موسم میں زیادہ پسند کی جاتی ہے۔
ماہرین غذا کے مطابق چائے کو معتدل مقدار میں خصوصاً بغیر زیادہ چینی کے استعمال کرنا بہتر انتخاب ہے۔ عام طور پر روزانہ دو سے چار کپ چائے معتدل استعمال کے دائرے میں آ سکتی ہے تاہم کیفین کی حساسیت رکھنے والے افراد کو اپنی مقدار پر توجہ دینی چاہیے۔




















