Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور ورچوئل اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے شفاف ریگولیٹری نظام متعارف

پاکستان میں موجودہ ورچوئل اثاثہ جات آپریٹرز لائسنس کے لیے 5 ستمبرتک درخواست جمع کراسکتے ہیں

پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور ورچوئل اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے شفاف ریگولیٹری نظام متعارف کرا دیا۔

پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کو باضابطہ ریگولیٹری نظام میں لانے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے  6 ماہ سے بھی کم عرصے میں لائسنسنگ ریگولیشنز جاری اور لائسنسنگ پورٹل فعال کردیا ہے۔

پاکستان میں موجودہ ورچوئل اثاثہ جات آپریٹرز لائسنس کے لیے 5 ستمبرتک درخواست جمع کراسکتے ہیں جبکہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت جاری ضوابط میں لائسنس کی10 مختلف کیٹیگریزمتعارف کرائی گئی ہیں ان میں ایکسچینج، بروکر ڈیلر، ایڈوائزری، قرض دینے اور لینے کی خدمات، مائننگ اور دیگرخدمات شامل ہیں۔

وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا کہ لاکھوں پاکستانیوں کے اثاثوں کومحفوظ بنانے کے لیے پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جس کی قانونی ذمہ داریاں بھی ہوں گی، سروس فراہم کرنے والوں کے لیے دعوت ہے کہ وہ لائسنس حاصل کرکے بینکاری نظام سے منسلک ہوں۔

بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ قانونی فریم ورک سے غیرملکی کمپنیوں کے لیے بھی بہترین مواقع کا دروازہ کھل چکا ہے ایکٹ کی منظوری کے 6 ماہ کے قلیل عرصے میں ایک ریگولیٹراورمکمل لائسنسنگ فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں