Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مکہ دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت بڑھ گئی، امریکی جریدہ

امریکی صدر کی حمایت پاکستان کے واشنگٹن میں برقرار سفارتی وزن کی علامت ہے، ایف پی آئی ایف

 امریکی معروف جریدے ایف پی آئی ایف نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے ذریعے پاکستان کی بڑھتی علاقائی اہمیت پر مضمون شائع کردیا۔

جریدے کے مطابق مکہ باہمی دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے سٹریٹجک وسعت، سفارتی اثرپذیری اور علاقائی توازن کا ذریعہ ہے، جبکہ معاہدہ بدلتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں علاقائی طاقتوں کے بڑھتے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

ایف پی آئی ایف کے مطابق امریکی صدر کی حمایت پاکستان کے واشنگٹن میں برقرار سفارتی وزن کی علامت ہے معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک نئے علاقائی دفاعی فریم ورک میں جوڑ دیا ہے، جبکہ تینوں ممالک نے خطے کے دفاع اور پائیدار امن میں تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مضمون کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک دوسرے کے خلاف مسلح حملے کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے کا اصول اپنایا ہے، معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی توازن اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے، سعودی عرب کی مالی و سیاسی قوت، ترکیہ کی دفاعی صلاحیت اور پاکستان کی جنگی تجربہ رکھنے والی فوج اس معاہدے کو منفرد قوت فراہم کرتی ہے۔

ایف پی آئی ایف نے مکہ معاہدے کو ایران مخالف اتحاد قرار دینے کو درست قرار نہیں دیا اور کہا کہ اسے ایران مخالف بلاک کے بجائے ایک ردعملی دفاعی فریم ورک سمجھنا زیادہ درست ہے۔

جریدے کے مطابق پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی روابط اور واشنگٹن و تہران کے درمیان ثالثی کا کردار معاہدے کی متوازن پالیسی کو نمایاں کرتا ہے، بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا سٹریٹجک تعاون پاکستان کے لیے مکہ معاہدے کی اہمیت کو مزید اجاگر کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل میں بعض حلقوں نے معاہدے کو تشویشناک پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایف پی آئی ایف کے مطابق گہرے سعودی پاکستانی دفاعی تعلقات بھارت کی علاقائی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں، مکہ معاہدے میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے شمولیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے اور اس کا فوکس علاقائی پراکسی خطرات سے نمٹنا ہے۔

جریدے کے مطابق یمن میں حوثی حملوں اور بحیرہ احمر میں عدم استحکام نے نئے علاقائی دفاعی انتظامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، پاکستان کی متوازن سفارت کاری اسے ایران، امریکا، چین، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بیک وقت روابط رکھنے کی منفرد صلاحیت دیتی ہے۔

ایف پی آئی ایف نے قرار دیا کہ مکہ معاہدے کی اصل طاقت کسی سخت بلاک کے قیام کے بجائے اس کی شمولیتی اور لچکدار نوعیت میں ہے۔

متعلقہ خبریں