اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت قومی ای فائلنگ نظام سے متعلق اہم مشاورتی اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کے لیے یکساں ڈیجیٹل فائلنگ نظام متعارف کرانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان سے خیبر پختونخوا بار کونسل کے وفد نے بھی ملاقات کی جس میں نئے ای فائلنگ نظام اور اسے وکلا دوست بنانے سے متعلق مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ملک بھر کی عدالتوں میں یکساں اور معیاری ای فائلنگ فریم ورک تیار کرنے کا عمل جاری ہے جس کے تحت کیسز کی فائلنگ، ٹریکنگ اور عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹل نظام سے مربوط کیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت سپریم کورٹ نے قومی سطح پر معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ مختلف عدالتوں میں درخواستوں اور مقدمات کی فائلنگ کا یکساں طریقہ کار اختیار کیا جاسکے۔
ای فائلنگ نظام کی تیاری میں بار کونسلز کو اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز اور بار کونسلز کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی میں ہر صوبائی بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل سے دو، دو ارکان شامل ہوں گے جو مجوزہ معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دیں گے۔
ذرائع کے مطابق حتمی ای فائلنگ فریم ورک قومی جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے بار نمائندگان سے نئے نظام کو وکلا دوست اور مؤثر بنانے کے لیے تجاویز بھی طلب کیں۔
قومی ای فائلنگ نظام کے ذریعے وکلا اور سائلین کو تیز تر اور آسان عدالتی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی میں شفافیت، یکسانیت اور مؤثریت بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ اقدام عدالتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس سے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے وکلا اور سائلین کے لیے انصاف تک رسائی مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔


















