اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی اور کچرے کی تلفی کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے زون 4 اور زون 5 کے لیے جامع منصوبہ تیار کرلیا جس کے تحت 65 یونین کونسلز میں گھر گھر سے کچرا اٹھانے، منتقلی اور ماحول دوست طریقے سے تلف کرنے کا منظم نظام سولڈ ویسٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے گا۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق منصوبے کے تحت دیہی اسلام آباد میں روزانہ تقریباً 342 ٹن کچرے کو جمع اور تلف کیا جائے گا جب کہ اس مقصد کے لیے تقریباً ایک ہزار 610 اہلکار اور 103 مختلف مشینیں اور گاڑیاں مختص کی جائیں گی۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے یہ منصوبہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایت اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت میں تیار کیا ہے جب کہ سی ڈی اے بورڈ نے سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کی منظوری بھی دے دی ہے۔
منصوبے پر پہلے مرحلے میں زون 4 اور زون 5 میں عملدرآمد کیا جائے گا جس کے نتیجے میں بنی گالا، غوری ٹاؤن اور گرد و نواح کے دیگر دیہی و نیم شہری علاقوں میں کچرا اٹھانے اور تلف کرنے کا باقاعدہ نظام متعارف ہوگا۔
سی ڈی اے کے مطابق دیہی علاقوں میں آبادی کا پھیلاؤ، طویل راستوں، تنگ سڑکوں اور بکھری ہوئی آبادی کے باعث صفائی کے لیے مرکزی شہری علاقوں سے مختلف حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے چھوٹی کچرا بردار گاڑیوں، ہاتھ سے چلانے والی گاڑیوں اور دیگر موزوں آلات کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت ہر یونین کونسل اور صفائی کے علاقے کے لیے مخصوص عملہ، گاڑیاں اور نگرانی کا انتظام ہوگا جب کہ کچرا اٹھانے کے راستے مقامی آبادی اور علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیے جائیں گے۔
منصوبے میں گھر گھر سے کچرا جمع کرنے کے بعد اسے مقررہ راستوں کے ذریعے منتقلی مراکز تک پہنچانے اور پھر بڑے پیمانے پر دوسری جگہ منتقل کرکے ماحولیاتی اصولوں کے مطابق تلف کرنے کا مربوط طریقہ کار شامل ہے۔
سی ڈی اے نے بتایا کہ گاڑیوں کی نقل و حرکت اور کچرے کی منتقلی پر جدید نگرانی کے ذریعے نظر رکھی جائے گی جس سے کچرا اٹھانے میں کوتاہی، گاڑیوں کی خرابی، عملے کی کمی اور شہریوں کی شکایات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔
صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مرکزی نگرانی مرکز قائم کیا جائے گا، جہاں گاڑیوں کی نقل و حرکت، صفائی کے راستوں کی تکمیل اور مختلف علاقوں میں وسائل کی تعیناتی کی نگرانی کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت کارکنوں کی حاضری اور فیلڈ میں تعیناتی کا بھی باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے گا جب کہ ہر یونین کونسل کی کارکردگی کی روزانہ بنیاد پر جانچ کی جائے گی۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کارکردگی کے واضح پیمانے مقرر کیے جائیں گے۔ کچرا اٹھانے، صفائی، مشینی صفائی، منتقلی مراکز اور دیگر متعلقہ خدمات کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں طے شدہ قواعد کے مطابق کارروائی ہوگی۔
منصوبے میں صفائی کے عملے کی حفاظت اور عزتِ نفس کا بھی خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔ کارکنوں کو مخصوص لباس، دستانے، حفاظتی جوتے، ماسک اور دیگر ضروری حفاظتی سامان فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سی ڈی اے نے مزید بتایا کہ منصوبے کی تیاری میں ترکی کی ایک معروف کچرا انتظامی کمپنی کی مہارت سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جس کے ذریعے جدید مشینری، بہتر انتظامی طریقوں اور جدید نگرانی کے نظام کو مقامی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد کی خوبصورتی، صفائی اور ماحولیاتی تحفظ صرف ترقی یافتہ شہری علاقوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ دیہی علاقوں کو بھی یکساں معیار کی شہری سہولیات فراہم کی جانی چاہیے۔
منصوبے کے تحت دیہی اسلام آباد کو مرحلہ وار منظم صفائی کے نظام میں شامل کیا جائے گا جس سے گلیوں اور آبادیوں میں کچرے کے ڈھیروں میں کمی، باقاعدگی سے کچرا اٹھانے اور ماحول کو صاف رکھنے میں مدد ملے گی۔
سی ڈی اے کا مزید کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف کچرا اٹھانے تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں صحت مند ماحول، ماحولیاتی تحفظ، بہتر معیار زندگی اور شہری سہولیات کی یکساں فراہمی کو یقینی بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
سی ڈی اے کے رکن ماحولیات عبداللہ خرم نیازی کی نگرانی میں منصوبے پر عملدرآمد کی تیاری جاری ہے جس کے تحت زون 4 اور زون 5 کو مرحلہ وار منظم صفائی کے نظام میں شامل کیا جائے گا۔
سی ڈی اے کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایسا صاف، سرسبز اور صحت مند اسلام آباد تشکیل دینا ہے جہاں وفاقی دارالحکومت کی کوئی یونین کونسل، آبادی یا برادری صفائی اور کچرے کی مناسب تلفی کی سہولت سے محروم نہ رہے۔

















