راولپنڈی: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 21 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 افسران سمیت 6 بہادر جوان اور محکمہ کسٹمز کا ایک اہلکار شہید ہوگیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ اور ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں جس دوران دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنادیے گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نوکچہ میں دہشت گردوں نے قومی شاہراہ این 40 پر غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کر رکھی تھی اور وہاں سے گزرنے والے مسافروں سے بھتہ وصول کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی یہ کوشش ناکام بنادی اور ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
دوسری جانب ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کرتے ہوئے کسٹمز ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے حملے کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جس کے نتیجے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور انہیں مزید جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد کسٹمز حکام کو اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی سے روکنا چاہتے تھے جب کہ کسٹمز ہاؤس پر حملہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا مظہر تھا۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 2 افسران سمیت 6 بہادر جوان شہید ہوگئے جب کہ شہید ہونے والوں میں محکمہ کسٹمز کا ایک سرکاری اہلکار بھی شامل ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ وطن کے بہادر سپوتوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ علاقے میں باقی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے گرد و نواح میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور دیگر ادارے پرعزم ہیں۔


















