ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں صورتحال شدید کشیدہ ہوگئی ہے جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی شروع کردی ہے۔
اسرائیل میں ہنگامی اقدامات، اسکول بند اور عوامی اجتماعات پر پابندی
اسرائیل نے ایران کے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں ہنگامی اقدامات کردیے ہیں جس کے تحت حکومت نے اسکول اور دفاتر بند کردیے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اسپتالوں کے مریضوں کو زیر زمین محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع کاتز نے پورے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور شہریوں کو ایرانی حملوں کے خطرے سے آگاہ کیا۔
فوج نے ریزرو اہلکاروں کو طلب کرکے سرحدی علاقوں اور حساس مقامات کی حفاظت مضبوط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
پولیس نے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی ہے تاکہ سیکیورٹی اور ہنگامی گاڑیاں بلا رکاوٹ حرکت کرسکیں۔
ابتدائی میزائل حملوں سے چند مقامات پر معمولی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ اسرائیلی شہری بم شیلٹرز تک فوری رسائی کے لیے ملک گیر الارم سسٹم کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔
یروشلم میں شہری خوراک خریدنے اور نقد رقم نکالنے کے لیے دکانوں کی جانب دوڑتے دکھائی دیے جب کہ تل ابیب کے قریب شیبا میڈیکل سینٹر نے تمام وارڈز کو زیر زمین منتقل کرکے ہنگامی تیاری مکمل کرلی ہے۔
میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل اتائی پیساچ نے کہا کہ اسپتال نے تمام خدمات اور شعبوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرکے ہنگامی حالات کے لیے تیار کرلیا ہے۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے حملوں کے وقت کو ’’شدید پریشان کن‘‘ قرار دیا
حمید غنبری نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے اس وقت ہوئے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات کا نیا دور جاری تھا اور یہ وقت ’’شدید پریشان کن‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدام ’’اعتماد کو توڑتے ہیں اور پرامن حل کے عزم پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں‘‘۔
نائب وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور موجودہ عسکری کشیدگی سے ہونے والے کسی بھی انسانی نقصان پر افسوس ہے۔
جنوبی ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملہ
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے جنوبی ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملہ کردیا، حملے میں جاں بحق طلبہ کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔
ایران کی اعلیٰ قیادت مکمل طور پر صحت مند ہے، تہران ٹائمز
ایران کی اعلیٰ سیاسی، عدالتی اور عسکری قیادت کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے درمیان تہران ٹائمز نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تمام اہم شخصیات مکمل طور پر صحت مند ہیں۔
ایرانی میڈیا آؤٹ لیٹ ’’تہران ٹائمز‘‘ کے مطابق ملک کے رہنما، صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر، چیف جسٹس، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور آرمی کے کمانڈر اِن چیف سب خیریت سے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق انجام دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں اعلیٰ قیادت کی صحت سے متعلق مختلف افواہیں زیر گردش تھیں جس کے بعد تہران ٹائمز نے واضح کیا کہ تمام اعلیٰ عہدیداران مکمل صحت میں ہیں اور کسی قسم کی تشویشناک صورتحال نہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے تہران سمیت کئی شہروں پر میزائل حملے
امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کرتے ہوئے تہران سمیت کئی شہریوں پر میزائل داغ دیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں دھماکے ہوئے جہاں شمالی علاقوں میں میزائل داغے گئے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مشرق میں ایک دھماکا سنا گیا جبکہ شمالی علاقوں میں مزید دو دھماکے ہوئے، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے۔
غیر ملکی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا، اس کے علاوہ سیستان، اصفہان، قم، کرج اورکرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا بتانا ہے کہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کےکمپاؤنڈ کے قریب 7میزائل گرے، حملوں میں کئی شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی ڈیل نہ ہونے پر ناراض تھے، ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سےجاری ہیں۔
متعددمیزائل تہران میں یونی ورسٹی روڈ اور جمہوری ایریا پرگرے: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا کا بتانا ہے کہ متعددمیزائل تہران میں یونی ورسٹی روڈ اور جمہوری ایریا پرگرے، تہران میں دھویں کے بادل بھی اٹھتے دیکھے گئے۔
ہم ایران کے میزائل نظام اور میزائل انڈسٹری تباہ کردیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ہمارا مقصد ایرانی حکومت سے آنے والے خطرات کو ختم کرکے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ کچھ دیر پہلے امریکی فوج نے ایران کےخلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے، ایران جوہری ہتھیارنہیں رکھ سکتا، ہم ایران کے میزائل نظام اور میزائل انڈسٹری تباہ کردیں گے، ہم ایران کی بحریہ کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع کی ایران پر پیشگی حملوں کی تصدیق
اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی ایران پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تہران پر حملہ کیا ہے، ایران پر پیشگی حملےشروع کیے ہیں۔
ایران کا امریکی و اسرائیلی کیخلاف سخت جوابی کارروائی کا اعلان
ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد ایران جوابی کارروائی کی تیاری کررہاہے، ہمارا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
سربراہ ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔
ایران پر آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا، اسرائیلی دفاعی اہلکار
اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران میں اسرائیل کا آپریشن امریکا کے ساتھ مل کر جاری ہے، ایران پر آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا، ایران پر حملے کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ایران نے حملے کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، عراق نے بھی فضائی ٹریفک معطل کردی۔
اختتام اب آپ کے ہاتھ میں نہیں، ہمارا ردعمل انتہائی سخت ہوگا: ایران کا امریکا و اسرائیل کو پیغام
ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر ہونے والے حملوں پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
ایرانی اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران، اصفہان، تبریز، قم اور کرج میں حملے کیے گئے ہیں۔
تہران کے مضافات میں میزائل حملوں کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں سرکاری عمارتوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی و اسرائیلی حملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، ہمارا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
سربراہ ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔


















