تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کی زبان سے بات نہیں کرنے دیں گے، اجازت نہیں دیں گے کہ امریکا ہمارے وسائل پر قبضہ کرے۔
اپنی صدارت کے دو سال مکمل ہونے پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ میں نے کبھی استعفیٰ نہیں دیا، استعفیٰ دینے کی ضرورت پڑی تو باضابطہ اعلان کروں گا۔ عوام کا سچا خادم ہوں، ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔ گزشتہ 2 سال میں کسی رشتہ دار یا حامی کیلئے کوئی ناجائز کام نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزام لگانے والے ثبوت لے کر آئیں۔ عوام کے سامنے ہمیشہ درست طریقہ کار بیان کرتا رہوں گا، کام خراب کرنے کی کوششوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے، ہم حق پر ڈٹ کر کھڑے ہیں اور لڑنے سے خوفزدہ نہیں۔
ایرانی صدر نے سوال اٹھایا کہ مشکل یہ ہے امریکا نے خطے کے ملکوں میں اپنے فوجی اڈوں سے ہم پر حملے کیے۔ ہمارے فوجی اڈوں و میناب اسکول پر کہاں سے حملہ ہوا؟ میناب اسکول پر ایک مسلمان و دوست ملک سے حملہ ہوا، وہ کیوں اجازت دیتے ہیں کہ امریکا ان کی زمین سے ہم پر حملہ کرے؟
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم ان ملکوں پر جوابی حملہ نہیں کرتے جس اڈے سے ہم پر حملہ ہوا اسے نشانہ بناتے ہیں۔ امریکا کیوں خطے میں فوجی اڈے قائم کرتا ہے؟ یہ کس نے کہا ہے ہم نوکر بن کر امریکا کے فرمان پر عمل کرتے رہیں؟ ہمارا کسی پر زور زبردستی کا ارادہ نہیں لیکن کسی کی زور زبردستی قبول بھی نہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ہم امریکا کو طاقت کی زبان سے بات نہیں کرنے دیں گے، اجازت نہیں دیں گے کہ امریکا ہمارے وسائل پر قبضہ کرے۔ امریکا عراق کا تیل بیچتا ہے لیکن عراقی حکومت کو اس کے پیسے نہیں دیے جاتے، ہم مجبور ہیں کہ اپنا دفاع کریں۔
امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ معاہدے میں جے ڈی وینس اور ڈاکٹر قالیباف نے دستخط کرنے تھے پھر یہ طے پایا کہ صدر ٹرمپ دستخط کریں تاکہ معاہدے کی رسمی حیثیت زیادہ معتبر ہو۔ اس طرف میں نے دستخط کیے تاکہ معاہدہ مزید معتبر ہو جائے ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ امریکا معاہدے کی خلاف ورزی نہ کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہت بہتر ہیں۔ امریکا، اسرائیل جنگ میں کوشش کی گئی کہ خلیجی ممالک کو ہمارے خلاف متحد کریں۔




















