Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فرانس نے روسی تیل بردار جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا

کریملن کے ترجمان دی متری پیسکوف نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی سمندری قزاقی کے مترادف ہے

فرانس نے برطانیہ کی مدد سے روس سے منسلک ایک تیل بردار جہاز کو سمندر میں روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق ٹاگور نامی آئل ٹینکر کو بحرِ اوقیانوس میں برطانیہ کے ساحلوں سے دور ایک کارروائی کے دوران روکا گیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز جعلی پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا اور اس کا تعلق روس کے مبینہ شیڈو فلیٹ سے تھا جسے ماسکو عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ بین الاقوامی پابندیوں کو چکمہ دینے، سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور یوکرین جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک برطانوی ہیلی کاپٹر نے بھی فرانسیسی حکام کی معاونت کی جس کے بعد جہاز کو حراست میں لے لیا گیا۔

دوسری جانب روس نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر قانونی کارروائی قرار دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دی متری پیسکوف نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی سمندری قزاقی کے مترادف ہے اور روس اپنے تجارتی مفادات اور کارگو کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد روسی تیل کی برآمدات پر عائد مغربی پابندیوں کے بعد ماسکو پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ نامعلوم ملکیت اور مختلف پرچموں کے تحت چلنے والے جہازوں کے ذریعے تیل کی تجارت جاری رکھے ہوئے ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران یہ چوتھا موقع ہے جب روس کے مبینہ شیڈو فلیٹ سے وابستہ کسی جہاز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں