امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر سخت اور جارحانہ مؤقف اپناتے ہوئے ایسے بیانات جاری کیے ہیں جنہوں نے خطے میں نئی تشویش کو جنم دے دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور اس کی بحری، فضائی اور دفاعی تنصیبات مؤثر انداز میں ناکارہ بنائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آنے والے وقت میں ایران پر مزید سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی تیل اور گیس کی اہم تنصیبات بالخصوص خارگ جزیرے مستقبل میں امریکی اثر و رسوخ یا کنٹرول میں آ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں ایران کی حیثیت کو محدود کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر کام جاری ہے۔
ٹرمپ نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے وینزویلا کی مثال بھی دی اور کہا کہ امریکا ماضی میں بھی بعض ممالک کے حوالے سے اسی نوعیت کی پالیسیاں اختیار کر چکا ہے جنہیں وہ کامیاب قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی غیر یقینی صورتحال اور سکیورٹی خدشات سے دوچار ہے۔ سیاسی و سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا گیا، تاہم مبصرین کی نظریں تہران کے ممکنہ مؤقف اور آنے والے دنوں کی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔



















