ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
ابراہیم عزیزی نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات اور جنگ بندی معاہدے کے اصولوں کے پابند نہیں، جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح امریکا کے لیے پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی۔
The U.S. attacked Iran in the middle of negotiations once again.
The failed U.S. President has shown he has no commitment to the principles of negotiation or a ceasefire.
This reckless violation of the ceasefire will, as always, lead to retreat and regret on their part.
The…
— ابراهیم عزیزی (@Ebrahimazizi33) June 26, 2026
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا اور امریکا کو اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی کا دعویٰ کردیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، امریکی جارحیت کے جواب میں کارروائی کی گئی۔




















