امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران ایک اچھی ڈیل چاہتا ہے تو امریکا بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں مختلف آپشنز موجود ہیں۔
کویت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے اپنے دورے کو اتحادی ممالک کی حمایت پر شکریہ ادا کرنے سے بھی جوڑا اور کہا کہ امریکا خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں جبکہ امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر آزادانہ طور پر بحال ہو۔
مارکو روبیو کے مطابق کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں ٹول یا ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ ایران سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مفاہمتی معاہدے کی مکمل پاسداری کرے۔
امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر 60 روز کے اندر عمل درآمد شروع ہونے کی امید ہے جبکہ تکنیکی ٹیمیں جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر مسلسل بات چیت کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی ٹیموں کا اگلا دور 30 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگا جہاں معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے پر کام جاری رکھا جائے گا۔


















