چیلسی نے یورپی چیمپیئن پیرس سینٹ جرمن (پی ایس جی) کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 0-3 سے شکست دے کر پہلے 32 ٹیموں پر مشتمل فیفا کلب ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
یہ فائنل نیو جرسی کے مشہور میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جس میں 81,118 شائقین نے شرکت کی، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل تھے۔
یورپی چیمپیئنز لیگ کے فاتح پی ایس جی نے امریکا میں اپنے سفر کا آغاز شاندار انداز میں انٹر میلان کو 0-5 سے شکست دے کر کیا تھا، تاہم فائنل میں وہ اپنی کارکردگی دہرانے میں ناکام رہے اور چیلسی نے مکمل طور پر میچ پر گرفت برقرار رکھی۔
کول پالمر نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو گول اسکور کیے اور ایک گول میں مدد فراہم کی، جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ چیلسی کے تیسرے گول میں جواؤ پیڈرو نے کول پالمر کے اسسٹ پر گیند کو جال میں پہنچایا۔ تینوں گول پہلے ہاف میں ہوئے۔
میچ کے آخری لمحات میں پی ایس جی کے کھلاڑی جواؤ نیوس کو وی اے آر کے ذریعے ریویو کے بعد مارک کوکوریا کے بال کھینچنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا، جس سے ان کی ٹیم کا دن مزید خراب ہو گیا۔
یہ نتیجہ ماہرین اور شائقین دونوں کے لیے حیران کن تھا۔ چیلسی نے اس سیزن میں شاندار فتوحات حاصل کیں، جن میں یو ای ایف اے کانفرنس لیگ جیتنا اور پریمیئر لیگ میں چوتھا نمبر حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ اس فتح کے ساتھ چیلسی پہلا 32 ٹیموں پر مشتمل کلب ورلڈ کپ جیتنے والا کلب بن گیا۔
چیلسی کو اس کامیابی پر تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (125 ملین) کی انعامی رقم بھی حاصل ہوئی، جو اگلے سیزن سے قبل مختصر وقفے کے باوجود بڑی خوشی کا باعث بنے گی۔
دوسری جانب، پی ایس جی کے لیے یہ شکست افسوسناک ہے خاص طور پر اس سیزن میں چیمپیئنز لیگ، لیگ اور کپ کے ٹائٹلز جیتنے کے بعد وہ اس عالمی ٹائٹل کو بھی اپنے نام کرنا چاہتے تھے۔ مالی لحاظ سے پی ایس جی کو بھی فائدہ ہوا، لیکن میدان میں ناکامی نے اس کا رنگ پھیکا کر دیا۔




















