Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سالانہ 70 لاکھ کینسر کیسز سے بچاؤ ممکن، عالمی رپورٹ

رپورٹ کے مطابق کئی کینسر انفیکشنز، غیر صحت مند طرزِ زندگی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہوتے ہیں

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 37 فیصد کینسر ایسے عوامل سے جڑے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی کینسر انفیکشنز، غیر صحت مند طرزِ زندگی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) سے ہونے والا سروائیکل کینسر ویکسین کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، جبکہ سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے مختلف ٹیومرز بھی بڑی وجہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق لاکھوں افراد کی زندگی بہتر بنانے کا بڑا موقع فراہم کرتی ہے، اگرچہ کچھ کینسر عمر بڑھنے یا موروثی جینیاتی عوامل کے باعث ناگزیر بھی ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کینسر کی دوبارہ آمد کے خلاف علاج میں انقلابی پیش رفت

عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے کینسر کے خطرے میں اضافے کے 30 قابلِ بچاؤ عوامل کا تجزیہ کیا۔ ان میں تمباکو نوشی، الٹراوائلٹ شعاعیں، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، فضائی آلودگی اور بعض انفیکشنز شامل ہیں، جن میں HPV، ہیپاٹائٹس وائرس اور معدے کے جراثیم H. pylori بھی شامل ہیں۔

تحقیق کے لیے 185 ممالک کے 2022 کے کینسر ڈیٹا اور گزشتہ دہائی کے خطرے کے عوامل کو استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں 1 کروڑ 80 لاکھ سے زائد کینسر کیسز میں سب سے بڑی وجوہات تمباکو نوشی (33 لاکھ کیسز)، انفیکشنز (23 لاکھ کیسز) اور الکحل کا استعمال (7 لاکھ کیسز) ہیں۔

مردوں میں تقریباً 45 فیصد جبکہ خواتین میں 30 فیصد کینسر قابلِ بچاؤ ہیں، جس کی ایک وجہ مردوں میں زیادہ سگریٹ نوشی ہے۔

ماہرین کے مطابق مختلف خطوں میں کینسر کی وجوہات مختلف ہیں، اس لیے ہر ملک کو اپنی صورتحال کے مطابق حکمت عملی بنانا ہوگی تاکہ کینسر کے عالمی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔