Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا بلیک ہولز ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں تک تیزی سے حرکت کرسکتے ہیں؟

یہ بلیک ہولز تب پیدا ہوتے ہیں جب دو بلیک ہولز آپس میں ٹکرانے کے بعد ایک دوسرے کے گرد اپنی گھومتی توانائی چھوڑ دیتے ہیں۔

سائنسدانوں نے ثابت کردیا ہے کہ ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں تک تیزی سے حرکت کرنے والے بلیک ہولز واقعی موجود ہیں۔

ماہرین فلکیات نے حالیہ برسوں میں ایسے بلیک ہولز کے وجود کو یقینی قرار دیا ہے جو ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں تک تیزی سے حرکت کرسکتے ہیں۔

یہ دریافت کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں ایک نیا پہلو شامل کرتی ہے اور ممکنہ طور پر ہمارے نظام شمسی کے مستقبل کے لیے دلچسپ ہے۔

دوڑتے ہوئے یا رن وے بلیک ہولز وہ ہیں جو انتہائی تیز رفتار سے خلا میں حرکت کرتے ہیں، یہ عام ستاروں کی طرح منحنی راستے اختیار نہیں کرتے بلکہ تقریباً سیدھی لائن میں حرکت کرتے ہیں۔

یہ بلیک ہولز تب پیدا ہوتے ہیں جب دو بلیک ہولز آپس میں ٹکرانے کے بعد ایک دوسرے کے گرد اپنی گھومتی توانائی چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں سیکڑوں یا ہزاروں کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار دے سکتی ہے۔

سائنسدانوں نے 2015 میں لیگو اور ورگو میں کشش ثقل کی لہروں کی مدد سے بلیک ہولز کے ٹکرانے کے نشانات دریافت کیے تھے۔ یہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ بعض بلیک ہولز کی گھومتی توانائی بہت زیادہ ہوتی ہے جو انہیں رن وے بلیک ہول کے طور پر خلا میں روانہ کرسکتی ہے۔

سال 2025 میں ماہرین نے کئی کہکشاؤں میں سیدھی ستاروں کی لکیریں یا ’’کنٹرولز‘‘ دیکھیں جو دوڑتے ہوئے بلیک ہولز کے ہونے کا ثبوت ہیں۔

مثال کے طور پر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ایک کہکشاں میں 2 لاکھ روشنی کے سال لمبی روشن لکیر دیکھی جو ایک تقریباً 10 ملین سورج کی ماس والے بلیک ہول کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہے اور یہ تقریباً 1 ہزار کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کررہا تھا۔

ایک اور کہکشاں این جی سی 3627 میں 25 ہزار روشنی کے سال لمبی سیدھی لکیر دیکھی گئی جو ایک تقریباً 2 ملین سورج کے ماس والے بلیک ہول کی وجہ سے بنی اور یہ 300 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کررہا تھا۔

یہ مشاہدات ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے رن وے بلیک ہولز کے ساتھ ساتھ چھوٹے بلیک ہولز بھی موجود ہوسکتے ہیں اور یہ کہکشاؤں کے درمیان سفر کرسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بلیک ہولز انتہائی طاقتور ہیں مگر ہمارے نظام شمسی تک پہنچنے کا امکان بہت کم ہے۔ یہ دریافت صرف کائنات کی کہانی کو مزید دلچسپ اور حیران کن نہیں بناتی بلکہ فلکیات کے مطالعے میں نئے پہلوؤں کو بھی کھولتی ہے۔