Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صحرا کی ریت کو کنکریٹ میں بدلنے کا طریقہ دریافت

مین کے تقریباً 19 ملین مربع میل (30.5 ملین مربع کلومیٹر) پر صحرا پھیلا ہوا ہے، جس میں ریت کی بڑی مقدار موجود ہے

ناروے اور جاپان کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے صحرا کی ریت کو نئے تعمیراتی مٹیریل میں تبدیل کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے جو سڑکوں کے لیے بہترین ہے۔

یہ نیا مٹیریل ماحولیات کو متاثر کیے بغیر دریا کے کناروں سے ریت نکالنے کی ضرورت کو بھی محدود کرے گا۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ زمین کے تقریباً 19 ملین مربع میل (30.5 ملین مربع کلومیٹر) پر صحرا پھیلا ہوا ہے، جس میں ریت کی بڑی مقدار موجود ہے، لیکن بدقسمتی سے اس ریت کو بے مصرف سمجھاجاتا ہے، دوسری طرف، تعمیرات میں استعمال ہونے والی ریت دریا کے بیڈز، کناروں، پتھر کے ٹکڑوں کو پیس کر یا سمندری تہہ سے نکالی جاتی ہے، جس سے قدرتی وسائل کی کمی اور مٹی کے کٹاؤ کا سامنا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ناروے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ٹوکیو یونیورسٹی کے محققین نے ان تمام مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نیا مواد تیار کیا ہے جسے بوٹینیکل سینڈ کنکریٹ یا سینڈکریٹ کا نام دیا گیا ہے۔

اس نئے مٹیریل کی تیاری میں محققین کے لیے سب سے بڑا چیلنج صحرا کی ریت کا باریک ہونااور کنکریٹ کے لیے غیر موزوں سمجھاجانا تھا، کیونکہ اس سے کنکریٹ اتنی سخت نہیں بنتی کہ اسے تعمیراتی منصوبوں میں استعمال کیا جا سکے۔

تاہم محققین نے مختلف صحرا کی ریت اور اسے مکس کرنے کے مختلف طریقے آزمانے کے بعد ایک ترکیب تیار کی، جس میں صحرا کی ریت اور پاؤڈر شدہ لکڑی کو برابر حصوں میں ملا کر 180 °C (356 °F) کی بلند درجہ حرارت اور زیادہ دباؤ کے تحت ایک ڈبل پلیٹ ہاٹ پریسنگ مشین میں بلاکس تیارکیا۔

یہ بھی پڑھیں: تھری ڈی پرنٹر سے کنکریٹ کی تیاری اب ہوئی آسان

اس عمل میں سینڈکریٹ لکڑی میں پائے جانے والے لگنِن (نامیاتی پالیمرز) پر انحصار کرتا ہے۔ حرارت اور دباؤ کے تحت لگنِن نرم ہو کر قدرتی طور پر ایک چپکنے والے مادے کی طرح کام کرتا ہے جو ریت کے ذرات کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ریت کی قدرتی الکالینٹی اس چپکنے والے مادے کو مزید مؤثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا بلاک تیار ہوتا ہے جو جاپانی صنعتی معیارات کے مطابق سڑکوں کے اینٹوں کے لیے کافی مضبوط ہوتا ہے۔

اس کی تیاری کا عمل نسبتاً سادہ ہے، یہی وجہ ہے  اسے کئی جگہوں پر آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ابھی مزید تجربات کی ضرورت ہے۔