Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، پاکستان کا مطالبہ

پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں رہا ہے

پاکستان نے عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا  کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے۔

پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد، جن میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک واقعہ، اور ماہِ مقدس رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ شامل ہے۔

 پاکستان کے پاس اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گردی کے اقدامات خارجی عناصر نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر انجام دیے۔

ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستان طالبان، فتنہ الخوارج  اور اس سے منسلک گروہوں، نیز اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ  نے بھی قبول کی۔

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بارہا زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسیز کے استعمال سے روکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور اس کے منسلک گروہوں نیز  سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے،تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔