اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے اٹھارہ سال سے کم مسیحی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادی پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت کم عمری کی شادی پر سزا ہوسکتی ہے نکاح ختم نہیں ہوسکتا، کم عمری کی شادی پر قانون میں صرف فوجداری سزا کا تذکرہ موجود ہے، چائلڈ میرج ایکٹ 1929 میں کم عمری کا نکاح ختم ہونے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
عدالت نے ماریہ بی بی کا قبول اسلام اور شہریار نامی لڑکے سے نکاح درست تسلیم کر لیا اور کہا کہ ماریہ نے نکاح سے پہلے اسلام قبول کیا جس کا ڈیکلریشن بھی موجود ہے، حبس بے جا کی درخواست میں لڑکی کی عمر، دارلفتاء کی دستاویز کی درستگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئینی تشریح کیلئے حتمی فورم سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہی ہے، سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئینی عدالت کا حکم ماننے کی پابند ہیں، آئینی عدالت سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عملدرآمد اور جو فیصلے آئین یا قانون سے متصادم ہوں آئینی عدالت وہ نظیریں ماننے کی پابند نہیں۔
یاد رہے کہ لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی نے اسلام قبول کرکے شہریار نامی لڑکے سے شادی کی تھی، ماریہ کے والد نے اغواء کا مقدمہ درج کروایا جسے خارج کردیا گیا تھا۔
ماریہ نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ اس نے مرضی سے شادی کی، اغواء نہیں ہوئی، ماریہ کے والد نے کم عمر ہونے پر حبس بیجا کی درخواستیں دائر کیں جو آئینی عدالت تک سے خارج ہوگئیں۔




















