شہر قائد میں عیدالاضحیٰ سے قبل جگہ جگہ قائم غیرقانونی مویشی منڈیوں نے شہریوں کیلئے مشکلات کھڑی کر دیں جس پر سید حسن نقوی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ناردرن بائی پاس کے علاوہ شہر کے اندر صرف 21 قانونی مویشی منڈیوں کی اجازت دی گئی ہے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے مطابق کمشنر آفس کے اجازت نامے کے بغیر قائم تمام مویشی منڈیاں غیرقانونی تصور ہوں گی جبکہ ڈپٹی کمشنرز کو فوری طور پر ایسی منڈیوں کے خاتمے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ غیرقانونی مویشی منڈیوں کی وجہ سے شہر میں شدید ٹریفک مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لیے ترجیحی بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں آپریشن کرتے ہوئے کئی غیرقانونی منڈیاں ختم کر دیں۔ ڈی سی جنوبی کے مطابق کھارادر اور غلام حسین قاسم روڈ سے غیرقانونی مویشی منڈیاں اور تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں۔
ڈی سی وسطی کا کہنا ہے کہ ناظم آباد کے مختلف علاقوں سے 3 غیرقانونی مویشی منڈیاں ختم کی گئیں جبکہ ڈی سی کورنگی کے مطابق کورنگی اور لانڈھی میں بھی 3 غیرقانونی منڈیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ضلعی شرقی میں بھی انتظامیہ متحرک رہی جہاں 2 غیرقانونی مویشی منڈیوں کو ختم کر دیا گیا جبکہ قیوم آباد چورنگی اور امتیاز مارٹ کے سامنے قائم غیرقانونی منڈیاں بھی ہٹا دی گئیں۔
کمشنر کراچی نے ہدایت کی ہے کہ تمام ڈپٹی کمشنرز ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک دباؤ کم کرنے کیلئے مشترکہ اقدامات کریں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے اندر قائم قانونی مویشی منڈیاں ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنز، بلدیہ عظمیٰ اور کنٹونمنٹ بورڈز کی مشاورت سے قائم کی گئی ہیں۔

















