Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چاند مشن کی جانب اہم قدم، چین کا انسانی خلائی پروگرام کامیابی سے آگے بڑھ گیا

چین کے اس مشن کا مقصد مستقبل میں چاند اور اس کے بعد مریخ تک انسانی مشنز بھیجنا ہے۔

چین نے اپنے انسانی خلائی مشن شینژو 23 کو کامیابی سے خلا میں روانہ کرکے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے ساتھ کامیاب ڈاکنگ مکمل کرلی ہے جو 2030 تک چاند پر انسان بھیجنے کے منصوبے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ مشن بیجنگ کے اس بڑے خلائی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد مستقبل میں چاند اور اس کے بعد مریخ تک انسانی مشنز بھیجنا ہے۔ اس مشن کے دوران ایک خلانورد کو ایک سال تک خلا میں رہنے کا تجربہ بھی کیا جائے گا جو اب تک کے مشنز سے کہیں زیادہ طویل مدت ہوگی۔

خلائی راکٹ گزشتہ روز چین کے شمال مغربی صحرائی علاقے سے روانہ ہوا اور چند منٹوں میں کامیابی سے مدار میں داخل ہوگیا۔ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے بعد خلائی جہاز نے تیانگونگ اسٹیشن کے ساتھ کامیاب طور پر رابطہ قائم کیا۔

چینی خلائی ادارے کے مطابق مشن میں شامل تمام عملہ مکمل طور پر صحت مند ہے اور لانچ مکمل کامیاب رہا ہے۔ اس مشن میں پہلی بار ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک خلانورد نے بھی حصہ لیا ہے جو اس پروگرام کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔

مشن میں شامل دیگر دو خلانورد پہلی بار خلا کا سفر کر رہے ہیں جنہیں مختلف سائنسی تجربات کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ان تجربات میں حیاتیات، طبی سائنس، مواد کی تحقیق اور طبیعیات شامل ہیں۔

خلائی ادارے کے مطابق اس مشن کا سب سے اہم مرحلہ ایک خلانورد کا ایک سال تک خلا میں رہنا ہے تاکہ کم کشش ثقل کے انسانی جسم پر اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکے۔ اس دوران جسمانی کمزوری، ہڈیوں کی کمزوری، ذہنی دباؤ اور نیند کے مسائل جیسے عوامل کا مشاہدہ کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل خلائی قیام مستقبل کے چاند اور مریخ کے مشنز کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے خلائی نظام، طبی سہولیات اور زندگی کو برقرار رکھنے والی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

چین کا یہ خلائی پروگرام گزشتہ کئی دہائیوں سے تیزی سے ترقی کررہا ہے اور چین نے اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ وہ عالمی خلائی دوڑ میں امریکا، روس اور یورپ کے برابر آسکے۔

یاد رہے کہ چین اس سے قبل چاند کے دور دراز حصے پر لینڈنگ اور مریخ پر روبوٹک مشن بھی کامیابی سے انجام دے چکا ہے۔ اب اس کا ہدف انسانی چاند مشن کو 2030 سے پہلے مکمل کرنا ہے جب کہ 2035 تک ایک مستقل خلائی تحقیقاتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک خلانورد کو بھی تیانگونگ اسٹیشن بھیجنے کی تیاری جاری ہے جو چین کے بین الاقوامی خلائی تعاون کے منصوبے کا حصہ ہوگا۔