حج کے مقدس سفر کے دوسرے مرحلے میں آج منیٰ روحانی مناظر کا مرکز بنا رہا جہاں دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمینِ حج نے یومِ ترویہ عبادات، دعا اور ذکرِ الٰہی میں گزارا۔ فضا مسلسل لبیک اللہم لبیک کی صداؤں سے گونجتی رہی۔
8 ذوالحج کے موقع پر پاکستانی عازمینِ حج سمیت دیگر ممالک کے حجاج نے منیٰ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں اور دن کا بیشتر حصہ خیموں میں گزارتے ہوئے عبادت اور آرام میں مشغول رہے۔
شدید گرمی کے باعث دن کے اوقات میں سرگرمیاں محدود رہیں، تاہم شام ڈھلتے ہی موسم نسبتاً خوشگوار ہونے پر منیٰ کی گلیاں اور سڑکیں ایک بار پھر عازمین کی آمدورفت سے بھر گئیں۔
ترجمان مذہبی امور کے مطابق اس وقت تقریباً 20 لاکھ فرزندانِ اسلام منیٰ میں موجود ہیں جہاں انتظامات کو انتہائی منظم انداز میں جاری رکھا گیا ہے۔
عازمینِ حج رات کے کھانے کے بعد میدانِ عرفات کی جانب روانگی کی تیاری کریں گے جبکہ اولین قافلے سرِ شام منیٰ سے عرفات کے لیے روانہ ہونا شروع ہو جائیں گے۔
کل 9 ذوالحج کو حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفات ادا کیا جائے گا، اور تمام عازمین ظہر سے قبل میدانِ عرفات میں موجود ہوں گے جہاں حج کا سب سے اہم مرحلہ مکمل ہوگا۔

















