چینی حکام نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پیمائش و معیار کے نظام کی ترقی اور متعلقہ صلاحیت سازی کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کا مقصد ملک میں اسے اے آئی پیمائش کی صلاحیتوں کو منظم اور جامع انداز میں فروغ دینا ہے۔
یہ ہدیت نامہ ریاستی انتظامیہ برائے مارکیٹ ریگولیشن(ایس اے ایم آر) اور قومی ترقی و اصلاحی کمیشن نے جاری کیا ہے۔
ایس اے ایم آر کے مطابق اس رہنما اصول کا اجرا چین کے اے آئی شعبے میں ایک اہم تدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں اب توجہ صرف کمپیوٹنگ پاور اور وسعت بڑھانے پر نہیں بلکہ معیار بہتر بنانے اوربنیادی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
ایس اے ایم آر نے کہا کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کو ٹیکنالوجی کی حقیقی معیشت کے ساتھ مربوط کرنے اور نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یہ رہنما اصول چھ اہم شعبوں بنیادی معاونت، عمومی ٹیکنالوجی، بنیادی ٹیکنالوجی پیمائش کے تکنیکی معیارات، میٹرولوجی سروس انڈسٹری اور میٹرولوجی کو زیادہ ذہین بنانے کی صلاحیت میں اضافہ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
مارچ 2026 میں جاری ہونے والے چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2030-2026) کے خاکے میں اے آئی پلس منظوبے کے مکمل اور وسیع نفاذ پر واضح طور زور دیا گیا ہے۔




















