بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی اور کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں سے ان کے اہلخانہ بھی لاتعلقی اختیار کرنے لگے ہیں۔
تربت سے تعلق رکھنے والی بی ایل اے، بشیر زیب گروپ کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اس کے اہلخانہ اور قریبی رشتہ داروں نے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے۔
فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ کی والدہ رخسانہ، دادا اورماموں نے تربت پریس کلب میں بتایا کہ شہناز بلوچ کم عمری میں ہی عمان منتقل ہوگئی تھی اور گزشتہ تقریباً بارہ برس سے خاندان کا اس کے ساتھ رابطہ نہیں ہے۔
والدہ کا کہنا تھا کہ شہناز بلوچ کے والد اس وقت انتقال کرگئے تھے جب وہ صرف نو ماہ کی تھیں، خاندان کو کبھی بھی اس کی کسی شدت پسند سرگرمی یا کسی کالعدم تنظیم سے روابط کے حوالے سے معلومات نہیں تھیں۔
شہناز بلوچ کے چچا اوردیگر رشتہ داروں نے کہا کہ ہمارے خاندان کا اس کے کسی قول، فعل یا سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں، ہم اور ہمارا خاندان پرامن پاکستانی ہے، ہم ہمیشہ قانون اور ریاستی اداروں کا احترام کرتے آئے ہیں۔
فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلخانہ اور رشتہ داروں کا اعلان لاتعلقی ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ قوم دہشت گردی کے ناسور سے تنگ آچکی ہے۔
















