اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کشمیر اور پاکستان کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
سردار عتیق احمد خان اور نبیلہ ایوب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ حکومت نے اس کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بجلی 3 روپے فی یونٹ فراہم کی جارہی ہے جب کہ آٹے سمیت دیگر اشیائے ضروریہ پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق وزیراعظم نے کشمیر ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل کیا گیا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کی جانب سے ایک نگران کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی تاہم اس کے باوجود جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دوبارہ احتجاج کی کال دی۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جب کہ عدالت واضح کرچکی ہے کہ یہ آئینی نشستیں ہیں اور قانون سازی کے بغیر انہیں ختم نہیں کیا جاسکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے میٹروں کی خریداری کے لیے ای ٹینڈرنگ کا مطالبہ بھی تسلیم کیا گیا جب کہ آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جاچکے ہیں۔ میرپور ایئرپورٹ کو فعال بنانے کے لیے متعلقہ ادارے کام کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ احتجاج کے دوران شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے امداد کا وعدہ پورا کیا گیا اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق طے شدہ نکات پر بھی عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔
طارق فضل چوہدری کہتے ہیں کہ ٹنلز کی تعمیر سمیت بڑے ترقیاتی منصوبے چند دنوں میں مکمل نہیں ہوسکتے تاہم ان منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ درمیانی اور طویل المدتی منصوبوں کے لیے ہر چند ماہ بعد احتجاج مناسب طرز عمل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ احتجاج کے دوران قائم کیے گئے 170 مقدمات بھی ختم کردیے گئے ہیں اور زبانی دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کے ثبوت موجود ہیں۔ کشمیر اور پاکستان کے تعلقات کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
اس موقع پر سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ حکومت پاکستان نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے ہیں اور حکومتی کمیٹی نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کس بیانیے پر کام کررہی ہے۔
سردار عتیق نے کہا کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے مسلسل آواز بلند کررہی ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔
نبیلہ ایوب نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کسی خفیہ سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔















