نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی تھری ڈی کیمرا بنایا ہے جسے “اسپائیڈر کیم” کہا جاتا ہے۔ یہ کیمرا مکڑیوں، خاص طور پر جمپنگ اسپائڈرز، کی آنکھوں سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔
جمپنگ اسپائڈرز کی آنکھیں بہت خاص ہوتی ہیں ان کی آنکھوں میں ایک سے زیادہ تہیں ہوتی ہیں جو ایک ہی چیز کو مختلف فوکس میں دیکھ سکتی ہیں دماغ ان فرقوں کو استعمال کر کے اندازہ لگاتا ہے کہ کوئی چیز کتنی دور ہے۔

یہ کیمرا بھی اسی خیال پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک ہی وقت میں دو تصاویر لیتا ہے، لیکن دونوں کا فوکس تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ پھر ایک خاص چِپ اور الگورتھم ان تصاویر کا تجزیہ کر کے فوراً بتا دیتا ہے کہ چیز کتنی دور ہے یہ ٹیکنالوجی بیٹری سے چلنے والے آلات، جیسے کہ پہننے کے قابل گیجٹس، ڈرونز اور روبوٹکس کے شعبے میں انتہائی کارآمد ہے۔
عام تھری ڈی کیمروں کو زیادہ طاقت، مہنگے آلات اور زیادہ توانائی چاہیے ہوتی ہے، لیکن اسپائیڈر کیم بہت کم بجلی استعمال کرتا ہے اتنی جتنی ایک چھوٹی نائٹ لائٹ۔

یہ کیمرا 32.5 فریم فی سیکنڈ کی رفتار سے کام کر سکتا ہے اور صرف 624 ملی واٹ بجلی استعمال کرتا ہے، یعنی یہ بہت زیادہ مؤثر ہے۔




















