Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مصنوعی ذہانت کا اثر، پاکستان میں ٹیکنالوجی کی ابتدائی نوکریاں 25 فیصد کم ہوگئیں

22 سے 25 سال عمر کے سافٹ ویئر ماہرین کی ملازمتوں میں بھی تقریباً 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے میں ملازمتوں کے رجحانات کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے، جہاں ابتدائی سطح کے سافٹ ویئر ماہرین اور دیگر شعبوں میں نئی ملازمتوں کی طلب میں تقریباً 25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ٹیک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی شعبہ مجموعی طور پر ترقی کررہا ہے تاہم کمپنیاں اب ایسے ماہرین کو ترجیح دے رہی ہیں جو مصنوعی ذہانت کے نظام کو استعمال اور بہتر انداز میں چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

صنعتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے لیے بھرتیوں میں تقریباً 25 فیصد کمی آئی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 22 سے 25 سال عمر کے سافٹ ویئر ماہرین کی ملازمتوں میں بھی 2024 کے بعد تقریباً 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جس سے نوجوان افراد کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں داخل ہونے کے مواقع متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کا ٹیکنالوجی شعبہ مسلسل وسعت اختیار کررہا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ٹیکنالوجی اور مواصلاتی خدمات سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن 12 کھرب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.6 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے باعث ایسے کئی کام اب خودکار طریقے سے انجام دیے جارہے ہیں جو پہلے ابتدائی سطح کے ملازمین کے ذمے ہوتے تھے۔

ان کاموں میں بنیادی ویب سائٹ ki تیاری، موبائل ایپلی کیشنز بنانا، ڈیزائننگ، مواد سے متعلق کام اور سافٹ ویئر کی جانچ شامل ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے کے باعث آزادانہ کام کرنے والے افراد کے لیے بھی ابتدائی سطح کے منصوبوں میں کمی دیکھی گئی ہے جب کہ بنیادی تحریری اور ترجمے کے کاموں میں سالانہ بنیاد پر 32 فیصد کمی آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق کمپنیاں اب ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جو مصنوعی ذہانت کے نظام کے ساتھ کام کرنے، انہیں بہتر بنانے اور نئے حل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے اس تبدیلی کو روزگار کے لیے خطرے کے بجائے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کا مقصد 2030 تک مصنوعی ذہانت سے متعلق 30 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنا ہے جس کے لیے تربیتی پروگرام اور وظائف فراہم کیے جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت سے بعض روایتی ابتدائی سطح کی ملازمتیں کم ہوسکتی ہیں تاہم مستقبل میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ نظام اور جدید سافٹ ویئر کے شعبوں میں ماہر افراد کی طلب میں اضافہ ہوگا۔