امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ابوظہبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ملک کو اس پر ٹول یا فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔ اس معاملے پر خطے میں کسی کو قائل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خطے کے سب ممالک کا اس پر اتفاق ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کے حمایت یافتہ گروہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اس وقت تک تنازع کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران انقلابی تحریک کے بجائے عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں۔ خطے میں جب تک ایرانی پراکسیز حملے کریں گے کشیدگی ختم نہیں ہو سکتی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، عراق میں بھی حماس، حزب اللہ جیسے گروہ دہشتگردی میں ملوث ہیں، امریکا ایران بات چیت میں یہ موضوع بھی جلد زیر بحث آئے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات سے خلیجی دورے کا آغاز کیا، اس دوران وہ کویت اور بحرین بھی جائیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق خلیجی ممالک کو امریکا کی جانب سے سکیورٹی کی یقین دہانیاں دینے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ عمان اور ایران نے منگل کے روز ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا تھا کہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیس کا جائزہ لیں گے۔




















