امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے طویل مدت کے لیے سخت ترین جوہری معائنوں پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی معائنوں کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے مزید بحری ناکہ بندی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی سے حاصل ہونے والے فنڈز ایک امریکی نگرانی والے ایسکرو اکاؤنٹ میں رکھے جائیں گے جو صرف خوراک اور طبی سامان کی فراہمی کے لیے استعمال ہوں گے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری تجارت معمول پر آنے کے بعد تیل کی ترسیل ایک ریکارڈ سطح یعنی یومیہ 1 کروڑ 90 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ان کے مطابق توانائی کی عالمی سپلائی مستحکم ہونے سے مارکیٹوں میں اعتماد بحال ہوا ہے اور تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے جا رہی ہیں جو عالمی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران سے معاہدے کے بعد خطے میں استحکام، بحری تجارت میں بہتری اور عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔




















