Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مشرقِ وسطیٰ اور تاریخی موڑ

اکستان عالمی مذاکرات کے نتائج کا تعین نہیں کرتا، لیکن وہ مکالمے، اعتماد سازی اور علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے

مشرق وسطیٰ شاید اپنی جدید تاریخ کے اہم ترین موڑ کے قریب پہنچ رہا ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط تنازعات، دشمنی، بیرونی مداخلت اور سیاسی غیر یقینی کے بعد یہ خطہ ایک ایسے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں پرانے مفروضوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور نئے امکانات جنم لے رہے ہیں۔

اس عمل کا حتمی نتیجہ ابھی واضح نہیں۔ مختلف علاقائی قوتوں کے درمیان  بہت زیادہ بد گمانی موجود ہے، ماضی کی نانصافیاں اور تنازعات اب بھی حل طلب ہیں، اور ناکامی یا پسپائی کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، بدلتی ہوئی علاقائی شراکت داریاں، معاشی اصلاحات کے پروگرام اور سفارتی روابط کے بڑھتے ہوئے دائرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تزویراتی (اسٹریٹجک) ماحول کی جانب بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ صدی کے بیشتر حصے کے لیے خطے کی بنیادی طور پر تنازعات اور سلامتی کے مسابقت کے ذریعے تعریف کی گئی، عرب۔اسرائیل تنازع، ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان دشمنی، علاقائی طاقتوں کے اختلافات اور مسلسل بیرونی مداخلتوں نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں سیکیورٹی خدشات سیاسی سوچ پر غالب رہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی ترقی، علاقائی روابط اور سماجی بہتری اکثر عدم استحکام کا شکار رہی۔

اب یہ صورتحال بتدریج تبدیل ہو رہی ہے۔ خطے کی بہت سی ریاستیں یہ تسلیم کر رہی ہیں کہ صرف تصادم کے ذریعے دیرپا اثر و رسوخ حاصل نہیں کیا جا سکتا اقتصادی طاقت، ٹیکنالوجی میں ترقی، سرمایہ کاری، تجارتی روابط اور داخلی استحکام بھی قومی طاقت کے اہم عناصر بن رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان نئی مفاہمت کا امکان اس بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں انتہائی اہم پیش رفتوں میں سے ایک ہے۔ اگر مزید مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں اور کوئی دیرپا معاہدہ طے پاجاتا ہے، تو اس کے اثرات واشنگٹن اور تہران کے باہمی تعلقات کی حدود سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت علاقائی سلامتی کے امور، توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

 اس کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادیوں اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ رقابت نے طویل محاذ آرائی کو جنم دیا۔ دوسری جانب اقتصادی پابندیوں نے ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا اور اسے عالمی تجارت و سرمایہ کاری سے بڑی حد تک دور رکھا اس کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیتوں، علاقائی اتحادوں اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کے ساتھ مسابقت سے متعلق خدشات نے طویل محاذ آرائی کو ہوا دی ہے دوسری جانب اقتصادی پابندیوں نے ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا اور اسے عالمی تجارت و سرمایہ کاری سے بڑی حد تک دور رکھا۔

اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کامیاب مفاہمت ہوتی ہے تو اس سے تمام فریقوں کو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایران کو اقتصادی ریلیف، عالمی منڈیوں تک رسائی اور ترقی کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ امریکہ فوجی تصادم کے خطرات کم کرنے اور جوہری معاملات پر نگرانی کا ایک مؤثر فریم ورک حاصل کر سکتا ہے۔ جبکہ خطے کے ممالک غیر یقینی صورتحال میں کمی اور معاشی تعاون کے نئے امکانات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مسلم دنیا کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت غیر معمولی ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے اثرات سے مسلم ممالک کئی دہائیوں سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔ اگر بڑی علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو توجہ اقتصادی ترقی، انفراسٹرکچر، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز کی جا سکتی ہے۔

خصوصاً خلیجی ممالک ایک زیادہ مستحکم ماحول سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر اپنی معیشتوں کو تیل پر انحصار سے نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلی کے پروگرام چلا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار استحکام، غیر ملکی سرمایہ کاری، بین الاقوامی اعتماد اور علاقائی روابط پر ہے۔

پرامن مشرقِ وسطیٰ سرمایہ کاری میں اضافہ، تجارت کے نئے مواقع اور خطے کو عالمی مالیات، لاجسٹکس، سیاحت، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کا مرکز بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

تاہم صرف امریکہ اور ایران کا معاہدہ تمام مسائل حل نہیں کر سکتا۔ فلسطین کا مسئلہ، متضاد قومی مفادات، داخلی سیاسی چیلنجز اور دہائیوں پر محیط عدم اعتماد اب بھی موجود ہیں۔ اس لیے سفارت کاری کو صرف وقتی کشیدگی میں کمی کے بجائے ایک وسیع اور طویل المدتی عمل کا آغاز بننا ہوگا۔

علاقائی استحکام کا ایک فوری معاشی اثر عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑے گا۔ اگرچہ دنیا بتدریج قابلِ تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ اب بھی عالمی توانائی سلامتی کا مرکز ہے۔ خطے میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال تیل کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

اس تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ ایک حساس سیکیورٹی مقام بھی رہا ہے کیونکہ یہاں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایک محفوظ اور مکمل طور پر فعال آبنائے ہرمز نہ صرف خلیج بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہوگی۔ اس سے توانائی درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً ایشیا، کو فائدہ ہوگا، عالمی منڈیوں کا اعتماد بڑھے گا اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کو جوڑنے والے نئے تجارتی و لاجسٹک نیٹ ورکس کی ترقی بھی ممکن ہوگی۔

زیادہ مستحکم مشرقِ وسطیٰ بتدریج ایک تنازعات سے وابستہ خطے سے دنیا کی اہم ترین معاشی راہداریوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بندرگاہیں، ریلوے، صنعتی زونز، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور توانائی کا انفراسٹرکچر علاقائی خوشحالی کے نئے دور کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں ابراہیمی معاہدے بھی اہم پیش رفت ہیں۔ ان معاہدوں نے اسرائیل اور کئی مسلم ممالک کے درمیان سفارتی روابط، اقتصادی تعاون اور تکنیکی تبادلے کے نئے دروازے کھولے ہیں۔

اسرائیل کے نقطہ نظر سے ان معاہدوں نے سفارتی تنہائی کم کرنے اور مسلم دنیا کے بعض حصوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا موقع فراہم کیا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی، زراعت، آبی وسائل کے انتظام، سائبر صلاحیتوں اور جدت کے شعبوں میں تعاون کی راہیں بھی ہموار ہوئیں۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے ممالک نے اپنی قومی ترجیحات کے تحت ان معاہدوں میں شمولیت اختیار کی۔ معاشی تنوع، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات اور علاقائی سلامتی ان کے فیصلوں کے اہم عوامل تھے۔

تاہم یہ فرض کرنا درست نہیں کہ اگر سعودی عرب مستقبل میں اسرائیل کو تسلیم کر لے تو پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک بھی اسی راستے پر چل پڑیں گے۔ ہر ملک کی اپنی تاریخی، سیاسی اور سماجی حقیقتیں ہوتی ہیں۔

پاکستان کا مؤقف کئی دہائیوں سے اس کی خارجہ پالیسی، فلسطینی عوام کی حمایت اور عوامی جذبات سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ انہی عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

مصنف کے مطابق مسلم ممالک کے لیے اصل سوال کسی ایک معاہدے میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا نہیں، بلکہ امن اور ترقی کے حصول کے ساتھ اصولوں، تاریخی حقائق اور انصاف کو برقرار رکھنے کا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے یہ تبدیلیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان واحد مسلم جوہری طاقت ہے، مضبوط عسکری صلاحیت رکھتا ہے اور جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور خلیجی خطے کو جوڑنے والی اہم جغرافیائی پوزیشن پر واقع ہے۔

پاکستان کے سعودی عرب، خلیجی ممالک، ایران، چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات اسے مختلف تزویراتی حلقوں کے درمیان رابطے کا منفرد موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان عالمی مذاکرات کے نتائج کا تعین نہیں کرتا، لیکن وہ مکالمے، اعتماد سازی اور علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

مصنف کے مطابق پاکستان کی اہمیت اب صرف سیکیورٹی کردار تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے سفارت کاری، علاقائی رابطوں اور معاشی تعاون کے ذریعے بھی اپنا مقام مضبوط بنانا ہوگا۔

پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے خلیجی ممالک، امریکہ، ترکی اور وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے چاہئیں۔ اسے محاذ آرائی کے بجائے مختلف خطوں کے درمیان ایک “پل” کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

آخر میں مصنف لکھتے ہیں کہ آئندہ دو دہائیوں میں مسلم دنیا کو ایک اہم انتخاب کرنا ہوگا: یا تو وہ تاریخی تنازعات اور بیرونی طاقتوں پر انحصار میں الجھی رہے، یا معاشی قوت، مشترکہ مفادات اور تزویراتی بصیرت کی بنیاد پر باہمی تعاون کو فروغ دے۔

مستقبل صرف بڑی آبادی، قدرتی وسائل یا فوجی طاقت رکھنے والوں کا نہیں ہوگا، بلکہ ان ممالک کا ہوگا جو استحکام، صلاحیت، موافقت پذیری اور دانشمندانہ سفارت کاری کو یکجا کر سکیں گے۔

مشرقِ وسطیٰ واقعی ایک تاریخی موڑ کے قریب ہو سکتا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کامیاب مفاہمت، ذمہ دار علاقائی سفارت کاری، محفوظ توانائی راستے اور متوازن معاشی تعاون ممکن ہو جائے تو ایک نئے دور کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

چیلنجز اب بھی بہت بڑے ہیں اور خطرات بھی حقیقی ہیں، لیکن مواقع بھی اسی قدر اہم ہیں۔

پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، کیونکہ تبدیلی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ اس تبدیلی کی سمت متعین کریں گے یا صرف اس کے اثرات کا جواب دیتے رہیں گے۔

اس کا فیصلہ تزویراتی بصیرت، معاشی طاقت اور ذمہ دار سفارت کاری کرے گی۔

متعلقہ خبریں