ایران سے منسلک میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ دوبارہ بحالی کا انحصار خطے کی صورتحال سے جڑا ہوا ہے خصوصاً لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر۔
رپورٹ میں ایک قریبی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک لبنان میں اسرائیلی سرگرمیوں پر قابو نہیں پایا جاتا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ ممکن نہیں ہوگا۔
ذریعے کے مطابق صرف بحری ناکہ بندی میں نرمی کافی نہیں ہوگی بلکہ زمینی و عسکری صورتحال میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگر لبنان میں حملے جاری رہے تو کسی بھی بڑے سفارتی یا تکنیکی معاملے پر پیش رفت کا امکان محدود ہو جائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کا تعلق ایران کے منجمد اثاثوں کے کچھ حصے کی رہائی سے بھی جوڑا گیا ہے جو مبینہ طور پر ایک مفاہمتی فریم ورک کے تحت زیر غور ہے۔
آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی اور تجارت پر براہ راست پڑ سکتے ہیں۔ لبنان کی صورتحال بھی اس پورے معاملے میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔


















