Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

’آپریشن شعبان‘ بلوچستان سمیت خطے کے امن کا ضامن، عالمی سطح پر بھی پذیرائی

آپریشن شعبان کے مثبت اثرات پاکستان کے مجموعی اندرونی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے

بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے “آپریشن شعبان” میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کوکامیابی سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

معروف عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ کے مطابق مانگی ڈیم کے قریب دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس نے فتنہ الخوارج کے خلاف “آپریشن شعبان” کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیوں میں سینکڑوں دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

دی ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ افغان طالبان کے حلیف فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان نے سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشن شعبان کو دہشت گرد نیٹ ورکس تباہ کرنے اور بلوچستان میں ریاستی رٹ  کی بحالی کیلئے طویل المدتی عسکری مہم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا۔

عالمی جریدہ کا کہنا تھا کہ آپریشن شعبان میں جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان، اس سے وابستہ علیحدگی پسند گروپوں اورشمالی اضلاع میں فتنہ الخوارج کو نشانہ بنایا جارہا ہے، فتنہ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن شعبان کے مثبت اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے مجموعی اندرونی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔

دی ڈپلومیٹ نے مزید کہا کہ آپریشن سے سیکیورٹی صورتحال بہتر اور بامقصد مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ خطے میں امن واستحکام کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔

ماہرین کے مطابق آپریشن شعبان کا آغاز اس بات کا اشارہ ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی طرف سے لاحق خطرہ اس حد تک پہنچ چکا تھا جہاں ایک بڑی کارروائی ضروری تھی، بلوچستان کی صورتحال کو سنبھالنے کیلئے عسکری کارروائیاں ضروری ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی اداروں کو مضبوط بنانا اور اقتصادی ترقی بھی ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں