کراچی: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق جون 2026 میں ملک کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 62.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق جون کے دوران برآمدات 9 فیصد کمی کے بعد 2.2 ارب ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ 14 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ اسی عرصے میں ٹیکسٹائل برآمدات 17 فیصد کمی کے ساتھ 1.3 ارب ڈالر رہیں، جو 14 ماہ کی کم ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب جون 2026ء میں درآمدات 29 فیصد اضافے کے ساتھ 6.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 48 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس دوران پیٹرولیم درآمدات 46 فیصد بڑھ کر 1.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
پی بی ایس کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں مجموعی تجارتی خسارہ 22 فیصد اضافے کے ساتھ 39.6 ارب ڈالر رہا۔
مالی سال کے دوران مجموعی برآمدات 6 فیصد کمی کے بعد 30.1 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 7 فیصد اضافے کے ساتھ 69.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں پیٹرولیم درآمدات میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے درآمدی بل پر دباؤ برقرار رہا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث بیرونی تجارتی توازن مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے اثرات زرمبادلہ کے ذخائر اور ادائیگیوں کے توازن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔















