امریکہ میں کی جانے ایک طویل مدتی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچپن میں فروٹ جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال مستقبل میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران 25 ہزار سے زائد بچوں کی صحت کا تقریباً 25 برس تک جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق وہ بچے جو روزانہ دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات استعمال کرتے رہے، ان میں جوانی میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ دیگر بچوں کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ پایا گیا۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ گلاس فروٹ جوس پینے والے بچوں میں بھی ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 35 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جوس اسٹرا کے ذریعے پئیں یا براہ راست گلاس سے؟ ماہرین نے بتادیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیک شدہ فروٹ جوس میں شکر کی زیادہ مقدار اور فائبر کی کمی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس سے طویل مدت میں بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تحقیق کے بعد ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو میٹھے مشروبات کی بجائے پانی، دودھ اور تازہ پھل استعمال کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ مستقبل میں ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔




















