Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مجھے مجبور نہ کریں کہ پیپلزپارٹی کا اعتماد اٹھ جائے، بلاول بھٹو

ن لیگ کے مفاد کے لیے آپ آزاد کشمیر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ چیئرمین پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر انہیں مجبور کیا گیا تو پیپلز پارٹی کا اعتماد اٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2 اگست کی رات کامیابی کا جشن منائیں گے اور عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ اپنا حق چاہتے ہیں تو 2 اگست کو تیر کے نشان پر مہر لگائیں۔

آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نعرہ ہوگا “کشمیر پر ڈاکا۔۔۔ نامنظور”۔ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں پہچان گئے ہیں، اب مظفر آباد کے ووٹ پر ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاج کے حوالے سے کہا کہ مسائل کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں سے بھی تاریخی غلطیاں ہوئی ہیں، ان کی تمام باتیں نہیں مانی جا سکتیں لیکن مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ میرے پاس ایک راستہ ہے جس سے امن واپس آ سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ کچھ لوگ شفاف انتخابات اور قومی مفاد کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے مفاد کو ترجیح دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قومی مفاد میں خاموش تھے، جبکہ دھاندلی کی کہانی آج سے شروع نہیں ہوئی، الیکشن میں دھاندلی ایک پرانا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امن واپس لانا اور حالات کو بہتر کرنا چاہیے۔ یہ کیا چاہتے ہیں کہ میرا میرپور مقبوضہ کشمیر جیسا لگے؟ آپ کیا چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر جیسا نظر آئے؟ یہ آزاد کشمیر ہے اور اسے کبھی مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے۔

بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے مفاد کے لیے آپ آزاد کشمیر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ ہم قومی مفاد کے لیے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن ن لیگ کے مفاد کے لیے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد۔ کشمیر کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ میرپور میں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے۔

بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کے باوجود 30 پولنگ اسٹیشنز پر حالات خراب کیسے ہوئے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ میرپور کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 14 دن تک آزاد کشمیر کے عوام کی زندگیوں کو عذاب بنایا گیا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ووٹوں پر ڈاکا ڈالے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے گزشتہ انتخابات میں جو کچھ کیا، اس الیکشن میں بھی وہی کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ظلم اور زیادتی کو جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، کیا اسے جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟

بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے پیپلز پارٹی کو اکثریت دلوائی ہے۔ انہوں نے میرپور کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے شکر گزار ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں