Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈیجیٹل کرنسی کی خریدوفروخت جرم ہے یا نہیں؟ عام شہریوں کے لیے اہم خبر

لاہور ہائیکورٹ نے ڈیجیٹل کرنسی کی خریدوفروخت کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرلیا

لاہور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ عام شہریوں کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے کرپٹو یا ڈیجیٹل ڈالر کی خریدوفروخت یا لین دین بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے کرپٹو فراڈ کیس میں نامزد ملزمان حماد علی، اسد امجد اور محمد اطہر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آن لائن اشیا یا ڈیجیٹل کرنسی کی خریدوفروخت کرنے والا ہر شخص محض اس بنیاد پر مجرم یا دھوکے باز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فیصلے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2018 میں صرف بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسی کی ادائیگیوں اور لین دین میں سہولت فراہم کرنے سے روکا تھا جبکہ عام شہریوں کے باہمی کرپٹو لین دین پر کوئی قانونی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ یو ایس ڈی ٹی ایک اسٹیبل کوائن ہے جس کی قیمت امریکی ڈالر کے برابر رکھی جاتی ہے تاہم یہ نہ تو سرکاری کرنسی ہے اور نہ ہی محض انٹرنیٹ پر اس کا ریٹ طے ہونے سے اسے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت غیر ملکی کرنسی تصور کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے رقم کا بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہونا خودکار طور پر الیکٹرانک جعل سازی یا پیکا کے تحت جرم نہیں بنتا کیونکہ بینکنگ اور آن لائن لین دین کا ریکارڈ پہلے سے محفوظ ہوتا ہے، اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ صرف تفتیش کی غرض سے ملزمان کو جیل میں رکھنا ضروری نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ اینٹی منی لانڈرنگ، ٹیکس قوانین یا دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی میں رکاوٹ نہیں بنتا اور اگر کسی جرم کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کر سکتے ہیں۔

دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کرپٹو ایپ پر اکاؤنٹ بلاک ہونے کے باعث مدعی کے تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار ڈیجیٹل ڈالر ضائع ہوئے جبکہ ملزمان نے کروڑوں روپے اپنے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے اس لیے ان کی ضمانت مسترد کی جائے۔

دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل صرف آن لائن ڈیجیٹل کرنسی کے خریدار اور فروخت کنندہ ہیں جبکہ کرپٹو ایپ یا اکاؤنٹ کے منجمد ہونے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) ملتان نے ملزمان کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں