Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی کے طلبا کی حیرت انگیز ایجاد، عمارتوں میں راستہ ڈھونڈنے کی ایپ تیار

ایپ میں عمارت کے مختلف شعبوں، دفاتر اور مقامات کی معلومات شامل کی جا سکتی ہیں

کراچی میں نوجوانوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک ایسا جدید حل پیش کر دیا ہے جو بڑی عمارتوں، جامعات اور عوامی مقامات پر راستہ تلاش کرنے کی مشکل آسان بنا سکتا ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (IoBM) کے طلبہ نے ایسی موبائل ایپ تیار کی ہے جو صارف کو عمارت کے اندر مطلوبہ مقام تک قدم بہ قدم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

آگمینٹڈ ریئلٹی (اے آر) ٹیکنالوجی پر مبنی اس ایپ کا نام “پاتھ ورس اے آر” رکھا گیا ہے، جو روایتی نقشوں کے بجائے موبائل کیمرے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صارف کو راستہ دکھاتی ہے۔ ایپ نہ صرف دفتر، کمرے یا کسی مخصوص مقام تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے بلکہ غلط راستہ اختیار کرنے کی صورت میں فوری طور پر نیا راستہ بھی تجویز کر دیتی ہے۔

طلبہ کے مطابق عمارتوں کے اندر عام طور پر جی پی ایس سگنلز درست کام نہیں کرتے، جس کی وجہ سے نئے آنے والے افراد، طلبہ اور وزیٹرز کو اپنی منزل تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ ایپ تیار کی گئی ہے، جو انٹرنیٹ اور جی پی ایس کے بغیر بھی آف لائن میپنگ سسٹم کے ذریعے کام کر سکتی ہے۔

کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ ٹیکنالوجی ایونٹ “ٹیک نوا” میں اس منصوبے کو خصوصی توجہ حاصل ہوئی، جہاں 35 سے زائد جامعات کے طلبہ نے شرکت کی اور 45 مختلف پروجیکٹس پیش کیے۔ تقریب میں مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ، ویب ڈیزائن، لوگو ڈیزائننگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے۔

پاتھ ورس اے آر کے وائس پریزیڈنٹ محمد انس نے بتایا کہ ایپ کا مقصد عمارتوں کے اندر نیویگیشن کو آسان بنانا ہے۔ ان کے مطابق وائس گائیڈنس فیچر صارف کو بار بار موبائل دیکھنے کے بجائے آواز کے ذریعے بھی منزل تک پہنچنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایپ میں عمارت کے مختلف شعبوں، دفاتر اور مقامات کی معلومات شامل کی جا سکتی ہیں، جبکہ اے آر ٹیکنالوجی صارف کو براہ راست مطلوبہ دروازے تک پہنچنے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس منصوبے کو جامعات سے آگے بڑھا کر اسپتالوں، شاپنگ مالز، سرکاری دفاتر اور دیگر بڑی عمارتوں میں استعمال کے قابل بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خصوصی افراد کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ بڑی عمارتوں میں راستہ تلاش کرنا ان کے لیے اکثر ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

ایونٹ ڈائریکٹر خالد محبوب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایسے منصوبے تعلیم اور صنعت کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔