کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارشوں اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے دفتر میں اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں صوبے بھر میں بارشوں کی صورتحال، ریسکیو، ریلیف اور نکاسی آب کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، پی ڈی ایم اے، محکمہ بلدیات اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور پانی کی نکاسی کے اقدامات مزید تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام افسران کو اپنے اپنے اضلاع میں موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز میں آئندہ دنوں کے دوران مزید 20 سے 60 ملی میٹر تک بارش کا امکان ہے، جبکہ کراچی میں بارش کے امکانات کم ہیں تاہم بعض علاقوں میں ہلکی بارش یا بوندا باندی ہوسکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے غیر حاضر ٹاؤن آفیسر عمرکوٹ کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔
سندھ میں بارشوں کی صورتحال اور نقصانات
مشیر برائے بحالی گیانچند اسرانی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بارشوں کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عمرکوٹ میں سب سے زیادہ 169 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق:
کنری میں 149 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
کلوئی میں 140 ملی میٹر بارش ہوئی۔
ڈپلو میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
کنگری غلام محمد میں 133 ملی میٹر بارش ہوئی۔
لطیف آباد میں 114 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
مٹھی میں 106 ملی میٹر جبکہ ڈھالی میں 104 ملی میٹر بارش ہوئی۔
حیدرآباد رورل میں 93 ملی میٹر اور حیدرآباد سٹی میں 89 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نشیبی علاقوں سے فوری نکاسی آب یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو مسلسل نگرانی کا حکم دیا۔
بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 8 زخمی
پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں بارشوں کے باعث 8 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تھرپارکر میں بارشوں سے 6 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے۔ تھرپارکر میں 3 افراد آسمانی بجلی گرنے، ایک شخص ڈوبنے جبکہ 2 افراد گڑھوں میں گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔
عمرکوٹ میں ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوئے، جبکہ بدین میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
بدین میں نہری شگاف، 200 گھروں میں پانی داخل
اجلاس میں بتایا گیا کہ بدین کے علاقے سیرانی میں میرواہ چینل میں دو شگاف پڑ گئے، جس کے باعث تقریباً 200 گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔
سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی نے دونوں شگاف ہنگامی بنیادوں پر پُر کر دیے ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نہروں، پشتوں اور آبی گزرگاہوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
کراچی میں بارش سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو بتایا کہ ممکنہ بارشوں سے نمٹنے کے لیے کراچی میں 10 ہیوی ڈیوٹی ڈی واٹرنگ پمپس مختلف اہم مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔
پمپس درج ذیل مقامات پر نصب کیے گئے ہیں:
نیپا چورنگی
ڈرگ روڈ انڈر پاس
قائدآباد
فلاح ناز
نیٹی جیٹی
کے پی ٹی انڈر پاس
سب میرین انڈر پاس
سندھ اسمبلی
ناظم آباد انڈر پاس
4K چورنگی
وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں نکاسی آب کے تمام انتظامات مکمل طور پر فعال رکھنے کی ہدایت کی۔
متاثرہ اضلاع میں اضافی پمپس تعینات
وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر حیدرآباد، عمرکوٹ، میرپورخاص، تھرپارکر اور ٹنڈو محمد خان میں اضافی ڈی واٹرنگ پمپس بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو فیلڈ میں رہنے اور روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ بارشوں کے دوران عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک رہیں اور متاثرہ علاقوں میں فوری اقدامات یقینی بنائیں۔













