سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث انٹارکٹیکا کی برف تیزی سے پگھلنے سے گزشتہ دو صدیوں سے برف میں محفوظ زہریلا پارہ سمندر میں شامل ہو رہا ہے جس سے سمندری حیات، غذائی سلسلے اور انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ پارہ قدرتی طور پر آتش فشاں اور چٹانوں کے کٹاؤ سے بھی خارج ہوتا ہے تاہم صنعتی انقلاب کے بعد ایندھن کے بے تحاشا استعمال اور کان کنی کی سرگرمیوں نے اس کی مقدار میں نمایاں اضافہ کردیا۔
گزشتہ دو سو برس کے دوران انٹارکٹیکا نے اس آلودگی کو اپنی برف میں جذب کرکے محفوظ رکھا لیکن اب برف پگھلنے سے یہی زہریلا مادہ دوبارہ سمندر میں پہنچ رہا ہے۔
چین کی پیکنگ یونیورسٹی کے ماہرین نے انٹارکٹیکا کے تیزی سے پگھلنے والے علاقے سے حاصل کیے گئے نمونوں کا تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ وہاں پارے کی مقدار عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ جمع ہورہی ہے جب کہ صنعتی دور کے آغاز کے بعد اس میں 160 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث برف کے پگھلنے اور زمینی کٹاؤ نے برف میں قید پارے کو دوبارہ متحرک کردیا ہے جس کے نتیجے میں سمندر اور فضا کے درمیان اس زہریلے مادے کی منتقلی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پارہ سمندری جانداروں میں ایک نہایت زہریلی شکل اختیار کرلیتا ہے جو مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے ذریعے غذائی سلسلے میں شامل ہوکر انسانوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
محققین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو جنوبی سمندر کے ماحولیاتی نظام، ماہی گیری اور خوراک کی حفاظت کو مستقبل میں مزید سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔




















