Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا روشنی کی رفتار سے بھی تیز سفر ممکن ہے؟ نئی تحقیق نے حیران کردیا

یہ مشاہدہ پانی میں آواز کی لہروں پر ہونے والے تجربات سے سامنے آیا۔

سائنس دانوں نے ایک ایسے ممکنہ طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے جس کے تحت توانائی کی بلند ترین شدت بظاہر روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتی دکھائی دے سکتی ہے۔

تحقیقی مقالے کے مطابق یہ مشاہدہ پانی میں آواز کی لہروں پر ہونے والے تجربات سے سامنے آیا، جہاں ایک ہی آواز کی لہریں دو مختلف راستوں سے سفر کرتی ہیں۔ ایک لہر سیدھا راستہ اختیار کرتی ہے جب کہ دوسری پانی کی سطح سے ٹکرا کر واپس آتی ہے۔

جب دونوں لہریں ایک مقام پر ملتی ہیں تو ان کے باہمی اثر سے توانائی کی بلند ترین شدت اپنی متوقع جگہ سے پہلے ظاہر ہوسکتی ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے توانائی معمول سے زیادہ رفتار سے پہنچی ہو۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر یہی اصول روشنی کی لہروں پر بھی لاگو ہوا تو خلا میں بھی ایسا ہی اثر پیدا ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی نئی معلومات روشنی کی رفتار سے پہلے منزل تک نہیں پہنچ سکے گی، اس لیے طبیعیات کے موجودہ قوانین برقرار رہیں گے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے مختلف نمونوں کا جائزہ لیا۔ ایک تجرباتی نمونے میں پانی کے اندر آواز کی لہروں کی بلند ترین شدت معمول کی رفتار کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رفتار سے آگے بڑھتی دکھائی دی تاہم جب یہ جانچا گیا کہ نئی معلومات کس رفتار سے منتقل ہوتی ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ اب بھی روشنی کی رفتار کی حد سے تجاوز نہیں کرتی۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق لہروں کے باہمی ملاپ سے توانائی کی چوٹی آگے منتقل ہوسکتی ہے مگر معلومات پہلے سے موجود نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی وہ روشنی کی رفتار سے آگے سفر کرتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اب اس نظریے کو عملی تجربات کے ذریعے جانچا جائے گا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہی اثر روشنی کی لہروں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اگر آئندہ تجربات میں یہ نتیجہ درست ثابت ہوا تو یہ روشنی اور توانائی کے رویے کو سمجھنے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔