روس میں کچھ خواتین آسانی سے دھوکا کھانے والے مردوں سے شادی کررہی ہیں جو فوج میں بھرتی ہو کر یوکرین کی جنگ میں جانے والے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ ان خواتین کا مقصد شوہر کی موت کے بعد حکومت کی طرف سے ملنے والی مالی امداد حاصل کرنا ہے۔
روس میں اگر کوئی فوجی جنگ میں مارا جائے تو اس کی بیوی یا قریبی رشتہ داروں کو حکومت کی طرف سے بڑی رقم مل سکتی ہے۔ یہ رقم تقریباً 50 لاکھ روبل سے شروع ہو کر 80 لاکھ روبل یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
اسی وجہ سے بعض خواتین کے بارے میں روسی میڈیا میں دعوے سامنے آئے ہیں کہ وہ صرف مالی فائدے کے لیے فوجیوں سے شادی کرتی ہیںانہیں بعض اوقات “بلیک وِڈوز” کہا جاتا ہے۔

سی این این کے مطابق، سینٹ پیٹرزبرگ کی 37 سالہ خاتون ماریہ کے والد یوکرین میں جنگ کے دوران مارے گئے۔
ماریہ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کے والد روسی فوج میں شامل ہو گئے تھے۔ بعد میں اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد نے اپنے سے 22 سال کم عمر ایک خاتون سے شادی بھی کر لی تھی مبینہ طور پر شادی کے صرف دو دن بعد وہ شخص جنگ کے لیے روانہ ہو گیا اور بعد میں مارا گیا۔
ماریہ کے مطابق اس نے اپنے والد کی نئی بیوی کو کبھی دیکھا یا بات نہیں کی تھی۔ والد کی موت کے بعد اسی خاتون نے حکومت کی طرف سے ملنے والی مالی رقم وصول کر لی۔
ماریہ نے بتایا کہ اسے ابتدا میں لگا جیسے یہ سب کوئی خواب ہے اور اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ واقعی ایسا ہو گیا ہے۔ اسے فوراً شک ہوا کہ شاید یہ کوئی فراڈ تھا۔

اس طرح کے واقعات کے حوالے روسی سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث ہورہی ہے ایک وائرل ویڈیو میں ایک خاتون ریئل اسٹیٹ ایجنٹ نے مبینہ طور پر ایسی خواتین کے بارے میں بتایا جو جنگ پر جانے والے فوجیوں سے شادی کر کے ان کی موت کے بعد ملنے والی رقم حاصل کرتی ہیں۔
اس خاتون نے اسے مالی فائدے کا ایک طریقہ قرار دیا اور کہا کہ کچھ خواتین ایسی رقم سے سستے اپارٹمنٹ خرید رہی ہیں۔
طرح کے بیانات کے بعد پر روس میں شدید غصہ پیدا ہوا۔ بعد میں حکام نے اس خاتون کے خلاف کارروائی کی اور اسے معطل کر کے قید کی سزا دی گئی اور اسے جنگ میں لڑنے والے فوجیوں اور ان کی بیویوں سے معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔
دوسری جانب کچھ معاملات میں روسی فوج کے اہلکاروں پر بھی مبینہ طور پر ایسے منصوبوں میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
الزام یہ ہے کہ کچھ فوجی اہلکار ایسی خواتین کے ساتھ مل کر کمزور مردوں کو فوج میں بھرتی کرواتے ان کی شادیاں کرواتے اور پھر انہیں خطرناک فوجی کارروائیوں پر بھیج دیتے تھے۔ اگر وہ فوجی مارے جاتے تو مبینہ طور پر معاوضے کی رقم میں سے کچھ حصہ ان لوگوں کو ملتا جو اس منصوبے میں شامل ہوتے۔
روس کے پریمورسکی کرائی میں ہونے والی ایک تحقیقات میں ایک وارنٹ افسر، ایک سارجنٹ اور ایک فوجی اکاؤنٹنٹ پر مبینہ طور پر ایسے مردوں کو تلاش کرنے ان کی شادیاں کروانے اور انہیں جنگ کے محاذ پر بھیجنے کے معاملے میں شبہ ظاہر کیا گیا۔




















