شہد ایک مکمل غذا ہے اس میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو آپ کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم اسے ہر بیماری کا علاج سمجھنا درست نہیں۔
صبح کے وقت ایک چمچ شہد استعمال کرنے کو صحت کے لیے مفید عادت سمجھا جاتا ہے طبی ماہرین کے مطابق شہد کے فوائد کو مبالغہ آرائی کے بجائے سائنسی شواہد کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
طبی ویب سائٹ کے مطابق شہد میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی بیکٹیریل اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جبکہ یہ فوری توانائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ تاہم شہد بنیادی طور پر شکر پر مشتمل غذا ہے، اس لیے اسے اعتدال میں استعمال کرنا ضروری ہے۔
گلے اور کھانسی میں سکون
شہد گلے کی خراش اور کھانسی کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسے نیم گرم پانی یا چائے میں شامل کرکے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر گلے کا انفیکشن بیکٹیریا کی وجہ سے ہو تو شہد طبی علاج یا اینٹی بایوٹک کا متبادل نہیں۔
فوری توانائی کا ذریعہ
شہد میں گلوکوز اور فرکٹوز سمیت قدرتی شکر موجود ہوتی ہے جس کے باعث یہ جسم کو فوری توانائی فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم یہی وجہ ہے کہ اسے زیادہ مقدار میں استعمال کرنا مناسب نہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات
شہد میں موجود مختلف مرکبات جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس سے نمٹنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کچھ تحقیق میں شہد کو دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے حوالے سے بھی مفید قرار دیا گیا ہے، تاہم اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہد اور لہسن کے استعمال کے حیران کن فوائد اور نقصانات
ہاضمے کے لیے ممکنہ فائدہ
مڈیسن نیٹ کے مطابق شہد میں ایسے اجزا موجود ہیں جو آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش میں معاون ہوسکتے ہیں، جس سے نظامِ ہاضمہ کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
دل کی صحت
کچھ مطالعات میں شہد کے استعمال اور کولیسٹرول سمیت بعض قلبی خطرات میں بہتری کے ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم شہد کو دل کی بیماریوں سے بچاؤ کا یقینی علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کینسر کے حوالے سے دعوے
شہد کے بعض مرکبات اور ان کے خلیاتی اثرات پر تحقیق جاری ہے، لیکن موجودہ شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ روزانہ ایک چمچ شہد کینسر کو روکتا یا ختم کرتا ہے۔ کینسر کے علاج کے لیے شہد کو کسی طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ذیابیطس کے مریض احتیاط کریں
شہد قدرتی غذا ضرور ہے لیکن اس میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ شہد عام چینی کے مقابلے میں خون میں شوگر پر کوئی جادوئی اثر ڈالے۔ زیادہ مقدار میں شہد خون میں شوگر بڑھا سکتا ہے، لہٰذا ذیابیطس کے مریض اسے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کے مشورے سے محدود مقدار میں استعمال کریں۔
جگر کی “صفائی” کا دعویٰ
شہد کو جگر سے زہریلے مادے نکالنے یا جگر کی صفائی کا ثابت شدہ ذریعہ قرار دینا درست نہیں۔ انسانی جسم میں جگر پہلے ہی مختلف مادوں کو پراسیس اور خارج کرنے کا اہم کام انجام دیتا ہے، اس لیے “ڈیٹاکس” سے متعلق غیر ثابت شدہ دعووں سے احتیاط ضروری ہے۔
اعتدال سب سے اہم
شہد کو متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے لیکن اسے کسی بیماری کا علاج یا صحت مند طرزِ زندگی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔
لہٰذا صبح خالی پیٹ ایک چمچ شہد استعمال کرنا بعض افراد کے لیے ایک خوش ذائقہ اور مفید غذائی عادت ہوسکتی ہے، مگر اس کے فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے اسے اعتدال اور مجموعی صحت مند غذا کے تناظر میں دیکھنا زیادہ درست ہے۔




















