اسلام آباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے تحفظات دور ہونے تک حکومت سے تعاون معطل رہے گا اور ملکی مفاد کی قانون سازی کے علاوہ کسی قانون سازی میں تعاون نہیں ہوگا۔
بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ملاقاتوں کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی کچھ جماعتوں نے پارلیمانی امور کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، ہماری خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں قائمہ کمیٹیوں میں واپس جائیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہر دور میں انتخابی عمل میں اپنا کردار ادا کیا اور انتخابی عمل کی بہتری کے لیے جدوجہد کی ہے۔ پیپلزپارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے اور اپنی شکست کو خوشی سے تسلیم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر جیسے چھوٹے خطے میں بھی انتخابات پر سوالات اٹھے ہیں، آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی سے نشستیں چوری کی گئیں۔ آزاد کشمیر انتہائی حساس علاقہ ہے اور وہاں ہونے والے انتخابات کو جتنا غیر متنازع بنایا جائے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔
بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں وفاق کا پورا لشکر موجود تھا، انتخابات ایک مرحلے کے بجائے تین اور اب چھ مراحل میں ہورہے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے اعتراضات بھی دائر کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کمیونیکیشن گیپ تھا جسے دور کردیا گیا ہے، سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور پارلیمانی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی علم نہیں، نہ ہی ان کے علم میں اس حوالے سے کچھ ہے۔
نئے صوبوں کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنا موقف پہلے ہی پیش کرچکی ہے، عوامی اتفاق رائے سے جو چیز ہوگی وہی قبول کی جائے گی۔ زبردستی سے پہلے کوئی چیز مانی ہے نہ آئندہ مانیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ پنجاب کے خلاف کسی سازش کا سوچ بھی نہیں سکتے جو سیاسی جماعتیں صوبوں کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتی ہیں وہ کوشش کرلیں، فیصلے عوامی اتفاق رائے سے ہی ہونے چاہیے۔
بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق سوال پر چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ جانے کے بجائے اگر حکومت بانی پی ٹی آئی کا علاج کرتی تو بہتر ہوتا۔
ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ اس معاملے پر ان کا کوئی فوکس نہیں، ان کی ترجیح یہ ہے کہ پارلیمان اپنا فعال کردار ادا کرے اور جو کام پارلیمنٹ کا ہے وہ پارلیمنٹ ہی کرے۔
حکومت سے تعاون کے حوالے سے بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی کے تحفظات دور ہونے تک حکومت سے تعاون معطل رہے گا۔ ملکی مفاد کی قانون سازی کے علاوہ کسی قانون سازی میں تعاون نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پیپلزپارٹی کے بغیر قانون سازی کرسکتی ہے تو کرلے، پیپلزپارٹی جمہوری اور پارلیمانی عمل کا احترام کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی کا کوئی رکن پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہیں دے گا۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ وزیراعظم سے کہا تھا کہ ہم ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر کام بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں انہیں معلوم نہیں کہ دال میں کیا کالا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اسے پیپلزپارٹی کی ضرورت نہیں تو پھر میں غلط ہوں۔ ہماری خواہش ہے کہ پارلیمنٹ کا جو کام ہے وہ ہم کریں اور جمہوری و پارلیمانی نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
انتخابی دھاندلی کے الزامات پر بلاول بھٹو نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات اب مذاق بن گئے ہیں لیکن کل بھی انتخابات ہونے ہیں، اس لیے اعتراضات دور کرنا ضروری ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوری عمل کے ساتھ کھڑی ہے اور عوام کے ساتھ بھی کھڑی ہوگی۔














