اسلام آباد: پمز اسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔
بدھ کی صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد آگ لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے نرسری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اسپتال حکام کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب ہوسکیں جبکہ دیگر 14 بچے جانبر نہ ہوسکے۔
واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئیں تاہم بعض لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔
لواحقین کا مؤقف ہے کہ بچوں کی باقاعدہ شناخت کیے بغیر میتیں ان کے حوالے کردی گئی ہیں جس کے باعث انہیں شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ میتوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔















