وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جشنِ یومِ ولادت سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ ، 12 ربیع الاول 1448ھ 26 اگست ، 2026 پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ اس بابرکت دن پر میں پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم امتِ مسلمہ کو سید الانبیاء ،خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر دلی مبارکباد اوراظہارِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کی ذاتِ مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغامِ ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔
اس سال قومی سطح پر ہم اس مبارک دن کو” نسلِ نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار”، سیرت النبی کی روشنی میں کے زیر عنوان منا رہے ہیں۔ نوجوان نسل کی بہترین کردار سازی کے لیۓ ہمیں سچائی، دیانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساسِ ذمہ داری جیسے اسلامی شعار انکی تربیت میں شامل کرنا ہونگے۔ تاکہ وہ سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی سے منور اور علم و تحقیق، محنت و خدمت کے جذبات سے سر شار ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسانی معاشرے کو اسلامی تعلیمات کے روشنی میں ایک نئی سمت سے متعارف کروایا۔ آپﷺ نے مکہ مکرمہ میں توحید، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی جیسی اقدار کے ذریعے دائمی اصلاح کی بنیاد رکھی اور مدینہ منورہ میں عملی طور پر عدل و مساوات، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق و فرائض سے آگاہ اسلامی معاشرہ قائم کیا۔
اسوہ حسنہ ﷺ تمام مسلمانوں کی دینی و دنیاوی اصلاح و فلاح اور مثالی کامیابی کے لیۓ مشعل راہ ہے۔ یقیناً رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک دینِ اسلام کی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہے۔ جس کی گواہی قرآن پاک میں موجود ہے۔ سیرتِ النبی ﷺ بنی نوع انسان کے لئے صدیوں سے ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے باوجود کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے انسانی شعور کو اوج کمال بخشا اور انسانوں کی ذہنی و اخلاقی نشوو نما اور انفرادی و اجتماعی زندگیوں کی ہدایت یافتہ راہ متعین کی۔شخصی اور سماجی کردار سازی سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغام کا اہم ستون ہے۔
دورِ حاضر میں درپیش معاشی و معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کو کامل ہدایت کے تابع سانچے میں ڈھالنا ہو گا۔ یہی ہماری اور آنے والی نسلوں کے لیۓ دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔
آج کا یہ مبارک دن ہمیں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے فروغ کی تاکید بھی کرتا ہے۔ کیونکہ باہمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام ہی اسوۂ رسول ﷺ کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک مضبوط اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔
آئیے,اس مبارک دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنے کردار، انفرادی رویوں اور اجتماعی طرز عمل میں اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پُرامن اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔














