قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فائر اور لائف سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی مہم تیز کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں 3 اہم عمارتیں سیل کردی ہیں۔
حکومت کی جانب سے سیکریٹری وزارتِ داخلہ کے ذریعے جاری فیصلے کی روشنی میں سی ڈی اے نے شہیدِ ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ اور بلیو ایریا میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی عمارت کو سیل کیا۔
سی ڈی اے کے مطابق ان عمارتوں میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پہلے ہی فائر سیفٹی سے متعلق آبزرویشنز اور ضروری ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ عمارتیں سیل کرنے کی کارروائی مقررہ حفاظتی تقاضوں اور متعلقہ قوانین کے تحت کی گئی ہے، جس کا مقصد ملازمین، شہریوں، عمارات میں آنے والے افراد اور عام عوام کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے متعلقہ شعبوں کو فائر سیفٹی کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور تمام عمارات میں حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی عمارت، ادارے یا تنظیم کو بنیادی فائر پریوینشن اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ضروری انتظامات نظرانداز کرکے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
سی ڈی اے کے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے اسلام آباد کی مختلف عمارتوں کے معائنے بھی جاری ہیں۔ انسپکشن کے دوران فائر پریوینشن سسٹم، ایمرجنسی ایگزٹس، فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی انخلا کی تیاری اور دیگر لائف سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بلڈنگ کنٹرول سیکشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ معائنوں کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو مقررہ مدت میں دور کروانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ فائر سیفٹی مہم صرف معائنوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی جانوں اور املاک کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے عملی انفورسمنٹ بھی جاری رہے گی۔ حفاظتی تقاضوں پر عمل نہ کرنے والی عمارتوں کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے متعلقہ شعبوں کو فائر سیفٹی اقدامات کی مسلسل نگرانی، خامیوں کی بروقت نشاندہی اور مؤثر اصلاحی کارروائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ اسلام آباد میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور حفاظتی ذمہ داری کا مضبوط کلچر فروغ پائے۔
سی ڈی اے نے تمام سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر اداروں، تجارتی مراکز اور نجی عمارات کے مالکان و انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لیں اور مقررہ حفاظتی معیار پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اتھارٹی کے مطابق فائر فائٹنگ آلات کی بروقت تنصیب اور دیکھ بھال، واضح اور قابلِ رسائی ایمرجنسی راستے، مؤثر انخلا کے انتظامات اور حفاظتی پروٹوکولز پر عملدرآمد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی مہم اسلام آباد کو محفوظ، پُرامن اور بہتر انتظامی سہولیات سے آراستہ وفاقی دارالحکومت بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
سی ڈی اے نے عمارتوں کی انتظامیہ کو فائر سیفٹی خامیاں دور کرنے کے لیے مقررہ وقت اور ضروری رہنمائی فراہم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فائر اور لائف سیفٹی کے بنیادی تقاضوں کی مسلسل خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ادارے کی اولین ذمہ داری ہے اور فائر و لائف سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
















