چین میں اے آئی سے بننے والے مختصر دورانیے کے ڈرامے بہت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ یہ ڈرامے موبائل فون کے لیے بنائے جاتے ہیں اور بہت کم وقت اور کم خرچ میں تیار ہو جاتے ہیں۔
تاہم اب ان ڈراموں کی تیاری کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ اے آئی کبھی کبھی چین کے معروف اداکاروں کے چہروں کو بغیر اجازت استعمال کر لیتا ہے یہی وجہ ہے اب چینی کمپنیاں لوگوں کے چہروں کے استعمال کے ’’حقوق‘‘ خرید رہی ہیں جسے ’’فیس بائینگ‘‘ کہاجاتا ہے۔

اس حوالے سے لوگوں کو پیشکش کی جاتی ہے کہ اگر وہ ڈراموں کے لیے اپنا چہرہ استعمال کرنے کی اجازت دیں تو انہیں اس کے بدلے میں کچھ رقم جوکہ عموماً 500 سے 1,500 یوآن کے درمیان ہوتی ہے ادا کی جائے گی رقم محدود ہونے کی وجہ سے بڑے اور معروف اداکار تو ایسے معاہدوں پر دستخط نہیں کرتے تاہم طالب علم، عام ماڈلز، ایکسٹراز اور غیر معروف افراد ضرور شامل ہوجاتے ہیں۔

بڑی پروڈکشنز میں اگرچہ مرکزی کردار کم ہوتے ہیں لیکن معاون کرداروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کمپنیاں حقیقی چہروں کے حقوق خریدنے کو ترجیح دے رہی ہیں اس طرح اب یہ چین میں ایک نیا کاروبار بن گیا ہے جہاں انسانوں کے چہرے اے آئی ڈراموں کے لیے کرائے پر لیے جا رہے ہیں تاکہ قانونی مسائل نہ ہوں۔
یہ معاملہ اس لیے بھی بحث میں ہے کہ کچھ لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں اور کچھ اسے انڈسٹری کا نیا طریقہ کہہ رہے ہیں۔




















