امریکا کی ریاست الاسکا میں واقع قطب شمالی کے قریب چھوٹا سا شہر اتکیاگ وک ان دنوں ایک حیران کن قدرتی منظر کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سورج 9 مئی کو طلوع ہونے کے بعد اب مسلسل 84 دن تک غروب نہیں ہوگا۔
اس غیر معمولی قدرتی عمل کے باعث شہر کے رہائشی اگلے تقریباً تین ماہ تک مسلسل دن کی روشنی میں زندگی گزاریں گے جہاں 24 گھنٹے سورج کی موجودگی معمول بن جاتی ہے۔ 84 دن مکمل ہونے کے بعد ہی سورج افق کے نیچے جائے گا اور اس کے ساتھ ہی یہاں ایک طویل رات کا آغاز ہوگا، جو مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اتکیاگ وک کی جغرافیائی پوزیشن اسے قطب شمالی کے انتہائی قریب لے آتی ہے جس کے باعث یہاں سال کے کچھ حصوں میں دن اور رات کا چکر عام علاقوں سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں مسلسل روشنی جبکہ سردیوں میں طویل تاریکی اس خطے کی پہچان ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہاں سورج غروب ہونے کے بعد بھی کئی ہفتوں تک مکمل اندھیرا نہیں ہوتا بلکہ روشنی کا مدھم تسلسل جاری رہتا ہے، جو 21 ستمبر کے آس پاس مکمل طور پر ختم ہوتا ہے۔
یہ قدرتی منظر دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں زمین کی محوری گردش انسان کو دن اور رات کے روایتی تصور سے بالکل مختلف تجربہ فراہم کرتی ہے۔



















